تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
برطانیہ کوایرانی آئیل ٹینکر پکڑنے کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا: آیت اللہ علی خامنہ ای
جبل الطارق میں برطانیہ نے بحری قزاقی کا ارتکاب کیا اور ہمارا آئیل ٹینکر زبردستی چھین لیا
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 21 صفر 1441هـ - 21 اکتوبر 2019م
آخری اشاعت: منگل 13 ذیعقدہ 1440هـ - 16 جولائی 2019م KSA 18:16 - GMT 15:16
برطانیہ کوایرانی آئیل ٹینکر پکڑنے کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا: آیت اللہ علی خامنہ ای
جبل الطارق میں برطانیہ نے بحری قزاقی کا ارتکاب کیا اور ہمارا آئیل ٹینکر زبردستی چھین لیا
ایران کے رہبرِاعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای
تہران ۔ ایجنسیاں

ایران کے رہبرِاعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے خبردار کیا ہے کہ برطانیہ کو جبل الطارق (جبرالٹر) میں ایرانی تیل بردار بحری جہاز پکڑنے کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا اور اسے اس حرکت کا جواب دیا جائے گا۔

ایران کی نیم سرکاری خبررساں ایجنسی کے مطابق علی خامنہ ای نے ایک تقریر میں خبردار کیا ہے :’’ برطانیہ نے بحری قزاقی کا ارتکاب کیا ہے اور ہمارا آئیل ٹینکر چھین لیا ہے۔ وہ ( انگریز) پہلے ایک جرم کا ارتکاب کرتے ہیں اور پھر اس کا قانونی جواز پیش کرنا شروع کردیتے ہیں۔ اسلامی جمہوریہ ایران ان کارروائیوں پر خاموش نہیں رہے گا اور ان کا جواب دے گا‘‘۔

چار جولائی کو ایران کے آئیل ٹینکر کی ضبطی کے بعد علی خامنہ ای کا یہ پہلا ردعمل ہے۔ جبل الطارق میں حکام نے برطانیہ کی شاہی بحریہ کی مدد سے ایران کے اس تیل بردار بحری جہاز کو روکا تھا۔اس کے بارے میں یہ بتایا گیا ہے کہ وہ یورپی یونین کی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شام کے لیے ایران کا خام تیل لے کر جارہا تھا۔

اس کے بعد سے ایران کے اعلیٰ حکومتی عہدے دار اور فوجی کمانڈر اس ٹینکر کو چھوڑنے کا مطالبہ کرچکے ہیں اور وہ برطانیہ کو بھی سنگین نتائج کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔

برطانوی وزیر خارجہ جیرمی ہنٹ نے سوموار کو ایک بیان میں کہا تھا کہ ایران کے اقدامات ’’انتہائی عدم استحکام‘‘ کے عکاس ہیں لیکن وہ مشرقِ اوسط میں کشیدگی میں کمی چاہتے ہیں۔

علی خامنہ ای نے اپنی اس تقریر میں یورپی ممالک کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ ایران تو جوہری سمجھوتے کی پاسداری کرتا رہا ہے لیکن اس نے یورپ کے اقدامات کے ردعمل میں اس کے تقاضوں سے انحراف کا آغاز کیا تھا۔

انھوں نے یورپی ممالک کو براہ راست مخاطب ہوکر کہا کہ ’’جان لیجیے ،ہم نے تو ابھی اپنے وعدوں پر عمل درآمد میں کمی ہے اور یہ عمل یقینی طور پر جاری رہے گا‘‘۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند