تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
میانمار کے جرنیلوں پر امریکی پابندیاں پہلا اچھا قدم ہے: روہنگیا سماجی کارکن
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 21 صفر 1441هـ - 21 اکتوبر 2019م
آخری اشاعت: جمعرات 15 ذیعقدہ 1440هـ - 18 جولائی 2019م KSA 13:46 - GMT 10:46
میانمار کے جرنیلوں پر امریکی پابندیاں پہلا اچھا قدم ہے: روہنگیا سماجی کارکن
وائی وائی نو۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ

میانمار کی روہنگیا کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی ایک سماجی کارکن کا کہنا ہے کہ امریکا کی جانب سے میانمار کی اعلیٰ عسکری قیادت پر پابندیاں خوش آئند ہیں مگر ابھی رہنگیا مسلمانوں کو مزید مدد کی ضرورت ہے۔

امریکی وزارت خارجہ نے منگل کے میانمار کی فوج کے آرمی چیف، تین اعلیٰ ترین افسران اور ان کے خاندانوں کی امریکا میں نقل و حرکت پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ ان افسران پر روہنگیا اقلیت کے قتل عام میں ملوث ہونے کے الزام میں پابندیاں لگائی گئی ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کی مذہبی آزادی کے موضوع پر منعقد ہونے والی ایک ملاقات میں سماجی کارکن 'وائی وائی نو' نے بتایا کہ میانمار میں کئی دہائیوں سے جاری آمرانہ فوجی ادوار کے محاسبے کی سخت ضرورت ہے۔

انہوں نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ برما میں موجود بہت سے افراد امریکا کی جانب سے جرنیلوں پر پابندی کے فیصلے کو سراہتے ہیں مگر ہمارا یہ ماننا ہے کہ اس پہلے قدم کے مزید پختہ اور ٹھوس اقدام کی ضرورت ہے۔"

ان کا مزید کہنا تھا کہ "میرا ماننا ہے کہ برما میں معاملات کے حل کے لئے جرائم ملوث افراد کو کڑی سے کڑی سزا ملنی چاہئیے ہے اور اقلیتوں کے خلاف نسلی اور مذہبی تعصب کو یکسر ختم کر دینا چاہئیے ہے۔"

وائی وائی نو نے میانمار کی فوج کے مظالم سہنے والے اور ان مظالم کے عینی شاہدین کے ساتھ امریکی وزارت خارجہ کی ملاقات میں شرکت کی۔ اس کے بعد انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات بھی کی۔

وائی وائی نو کے والد بھی ایک سماجی کارکن ہیں اور وہ 2005 میں میانمار کی فوج کے ہاتھوں زیر حراست رہ چکے ہیں۔

ان کے والد کو 2012 میں مغربی طاقتوں کی جانب سے دبائو ڈالے جانے کے بعد میانمار کی فوجی حکومت نے سیاسی قیدیوں کو رہا کردیا تھا اور ملک میں انتخابات کی اجازت دے دی تھی۔

2017ء میں میانمار کی فوج نےروہنگیا کے خلاف فوجی آپریشن شروع کیا جس کے نتیجے میں 7 لاکھ 40 ہزار افراد ہمسایہ ملک میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے تھے۔ روہنگیا برادری میں اکثر تعداد مسلمان ہے۔
 

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند