تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
برطانوی جہاز پر ایرانی تسلط غیر قانونی ہے: سیکیورٹی کونسل میں شکایت
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 18 ربیع الثانی 1441هـ - 16 دسمبر 2019م
آخری اشاعت: اتوار 18 ذیعقدہ 1440هـ - 21 جولائی 2019م KSA 08:47 - GMT 05:47
برطانوی جہاز پر ایرانی تسلط غیر قانونی ہے: سیکیورٹی کونسل میں شکایت
دبئی ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ

برطانیہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے نام ایک خط تحریر کیا ہے جس میں واضح کیا گیا ہے برطانوی پرچم بردار بحری جہاز ایرانی مچھیروں کی کشتی سے نہیں ٹکرایا۔ یاد رہے کہ ایران نے اس واقعہ کو بنیاد بنا کر برطانوی جہاز پر قبضہ کر لیا تھا۔

سیکیورٹی کونسل کے نام اپنے خط میں برطانیہ کا کہنا تھا کہ سلطنت آف عمان کی بحری حدود میں ایران کی ایک کشتی برطانوی جہاز کے قریب آئی جو تہران کی جانب سے غیر قانونی تصرف کے زمرے میں آتا ہے۔

خط کے مطابق بین الاقوامی سمندری راستوں میں جہازوں کو دھمکانے جیسے واقعات تناؤ میں اضافے کا باعث ہیں اور انہیں کسی طور پر جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ حالیہ پیش رفت انتہائی پریشان کن ہیں۔ صورت حال کا تقاضہ ہے کہ حالات کو پرسکون رکھا جائے۔

اس سے قبل برطانوی اخبار ’’ڈیلی ٹیلی گراف‘‘ نے ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ برطانوی وزراء برطانوی خلیج میں برطانوی پرچم بردار جہاز کو روکنے کی پاداش میں ایران کے خلاف پابندیاں لگانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

اخبار کا مزید کہنا تھا کہ اس بات کی توقع کی جا رہی ہے کہ برطانوی وزیر خارجہ جیریمی ہنٹ آج بروز اتوار ایران کے خلاف سفارتی اور اقتصادی اقدامات اٹھائیں جن میں برطانوی جہاز روکنے کی پاداش میں ایران کے اثاثے منجمد کر دیئے جائیں۔

اخبار کے مطابق برطانیہ یو این اور یورپی یونین سے اپیل کر سکتا ہے کہ وہ جوہری معاہدے کے بعد ایران پر سے اٹھائی جانے والے پابندیاں دوبارہ عائد کر دے۔ ہفتے کے روز برطانوی وزارت خارجہ نے بتایا کہ انہوں نے لندن میں ایرانی چارج ڈی افیئرز کو طلب کیا ہے اور ان سے آبنائے ہرمز میں برطانوی بحری جہاز روکنے پر احتجاج کیا۔

جمعہ کی شب ایران نے برطانوی پرچم بردار بحری جہاز ’’اسٹینا ایمپرو‘‘ کا کنڑول سنبھال لیا تھا۔ جہاز پر عملے کے 23 افراد سوار تھے۔ روٹ میپ کے مطابق جہاز یو اے ای کی ریاست الفجیرہ کی بندرگارہ سے سعودی عرب کی ایک بندرگاہ جا رہا تھا۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند