تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
خالد شیخ محمد سعودی عرب کے خلاف ڈیل میں شریک ہونے کو تیار
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 16 محرم 1441هـ - 16 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: منگل 27 ذیعقدہ 1440هـ - 30 جولائی 2019م KSA 15:43 - GMT 12:43
خالد شیخ محمد سعودی عرب کے خلاف ڈیل میں شریک ہونے کو تیار
خالد شیخ محمد
دبئی – العربیہ ڈاٹ نیٹ

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کا کہنا ہے کہ 11 ستمبر کے حملوں کا ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد امریکا کے ساتھ ایک عدالتی ڈیل پر تیار ہو گیا ہے۔ ڈیل کے تحت خالد شیخ کی سزائے موت منسوخ کر دی جائے گی اور اس کے مقابل وہ 2001 میں ان حملوں کا نشانہ بننے والے افراد کے خاندانوں کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف دائر کیے گئے مقدمات میں بطور گواہ پیش ہو گا۔ یاد رہے کہ 11 ستمبر کے حملوں میں 3000 کے قریب لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔

مارچ 2003 میں ایک متنازع کارروائی میں امریکی حکام کے ہاتھوں گرفتار ہونے والا یہ دہشت گرد ان لوگوں میں شامل تھا جو قطر کی حکومت سے تنخواہ وصول کرتے تھے۔ سال 1996 میں امریکا نے قطری حکام سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ خالد شیخ محمد عُرفKSM کو حوالے کر دے۔ تاہم دوحہ نے نہ صرف اسے حوالے کرنے سے انکار کر دیا بلکہ افغانستان فرار ہونے میں اس کی مدد بھی کی۔ اس کے 5 برس بعد 11 ستمبر کی دہشت گردی کا واقعہ پیش آیا۔

سابق امریکی صدور بل کلنٹن اور جارج بش کی انتظامیہ میں امریکا کے سکیورٹی اور انسداد دہشت گردی کے سابق قومی رابطہ کار رچرڈ کلارک نے 2017 میں نیویارک ڈیلی نیوز میں شائع شدہ اپنے ایک مضمون میں خالد شیخ محمد کے بارے میں اہم تفصیلات کا انکشاف کیا تھا۔

انھوں نے لکھا کہ "بہت سے لوگ نائن الیون حملوں میں ہلاکتوں سے اسامہ بن لادن کا نام جوڑتے ہیں لیکن ایک اور شخص سیریل دہشت گرد دراصل حقیقی رنگ لیڈر تھا۔ میں 1993ء میں پہلی مرتبہ خالد شیخ محمد ( کے ایس ایم) کے نام سے متعارف ہوا تھا۔ تب اس کا ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر ٹرک بم حملے کے سلسلے میں نام سامنے آیا تھا۔ بعد میں ہمیں یہ پتا چلا تھا کہ وہ بڑے پیمانے پر دہشت گردی کے حملوں کو منظم کرنے کی صلاحیت کا حامل تھا مگر اسامہ بن لادن میں یہ صلاحیت نہیں پائی جاتی تھی۔

خالد شیخ محمد پاکستانی نژاد تھا۔ اس کی ابتدائی نشوونما کویت میں ہوئی تھی اور اس نے امریکی ریاست شمالی کیرولینا میں انڈر گریجویٹ ڈگری تک تعلیم حاصل کی تھی۔ وہ نیو یارک میں حملوں کے بعد 1995ء منیلا میں نمودار ہوا تھا اور وہاں بحرالکاہل پر پرواز کے دوران امریکی طیاروں میں بم حملوں کی سازش تیار کی تھی۔

ان دو بم حملوں کی سازش کے بعد امریکا کی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی قیادت نے 1996ء میں خالد شیخ محمد کو سب سے خطرناک دہشت گرد قرار دے دیا تھا۔ اس کے خلاف سربہ مہر فرد جرم عائد کی گئی تھی۔ اس کے بعد امریکا کے لیے یہ ناگزیر ہوگیا تھا کہ وہ خالد شیخ محمد کو تلاش کرے اور اس کو پکڑ کر امریکا لے آئے۔ پھر اس نے اس عالمی دہشت گرد کا قطر میں سراغ لگا لیا تھا اور وہ وہاں محکمہ آب میں کام کر رہا تھا۔


قطری حکومت اور مقامی سکیورٹی فورسز سے یہ امید نہیں کی جا سکتی تھی کہ وہ خالد شیخ محمد کو گرفتار کر لیں گی کیوں کہ قطری دہشت گردوں کی پشت پناہی کے وقت دستانے پہن لیتے تھے تاکہ کہیں ان کا سراغ نہ لگ سکے۔ مزید برآں قطر کے شاہی خاندان کی ایک شخصیت اور کابینہ کے رکن اس معاملے میں ملوث تھے۔ ان کے القاعدہ سے تعلقات تھے اور وہی صاحب خالد شیخ محمد کے بھی مبینہ طور پر پشتیبان تھے جب کہ امریکا انھیں گرفتار کرنا چاہتا تھا۔

امریکا قطر میں خالد شیخ محمد کو کیوں نہیں پکڑ سکا تھا۔ اس کی ایک وجہ رچرڈ کلارک نے یہ بیان کی کہ اس وقت دوحہ میں امریکی سفارت خانے میں سفارتی اور انٹیلی جنس اہل کاروں کی کوئی زیادہ تعداد موجود نہیں تھی۔ امریکی ایف بی آئی کا کوئی دفتر ، یا دفاعی اتاشی یا سی آئی اے کا اسٹیشن نہیں تھا۔

انھوں نے یہ بھی لکھا کہ نائن الیون حملوں سے قبل پینٹاگان کے حکام کسی غیر ملک میں اس طرح کے مشتبہ افراد کو پکڑنے میں متردد تھے۔ چناں چہ خالد شیخ محمد کے معاملے میں کلنٹن انتظامیہ نے قطر سے براہ راست رابطے کا فیصلہ کیا اور امریکی سفیر کو ہدایت کی گئی کہ وہ امیر قطر سے اس معاملے پر براہ راست بات کرے۔ امریکا نے تب یہ منصوبہ بنایا تھا کہ قطری سکیورٹی سروسز خالد شیخ محمد کو پکڑیں گی اور پھر امریکی ٹیم اس کو گرفتار کر کے لے جائے گی۔

لیکن قبل اس کے کہ امریکا اپنی اس خواہش کو عملی جامہ پہناتا۔ امریکی سفیر کے امیر قطر سے ملنے کے چند گھنٹے کے بعد ہی خالد شیخ محمد دوحہ سے غائب ہوگیا۔ امریکیوں کو یہ بتایا گیا کہ وہ ملک سے کہیں اور چلا گیا ہے لیکن یہ اشارہ تک نہیں دیا گیا کہ وہ سرکاری حکام کے علم کے بغیر یکایک ملک سے کیسے غائب ہوا تھا؟

اس کے بعد خالد شیخ محمد نے کیا کیا؟ اس کے بارے میں رچرڈ کلارک نے لکھا کہ "اس نے نائن الیون حملوں، انڈونیشیا کے جزیرے بالی میں بم دھماکوں اور پاکستان میں امریکی صحافی ڈینیل پرل کے قتل سمیت مختلف حملوں کی منصوبہ بندی کی تھی"۔

نائن الیون حملوں کے کوئی دو سال کے بعد اس کو پاکستان میں امریکی ایجنٹوں نے پاکستانی افسروں کی مدد سے پکڑ لیا تھا اور پھر اس کو گوانتانامو بے کی فوجی جیل میں منتقل کردیا گیا تھا۔ کلارک اپنے مضمون کے آخر میں لکھتے ہیں "اگر قطریوں نے خالد کو 1996ء میں ہماری درخواست پر گرفتار کر کے ہمارے حوالے کر دیا ہوتا تو دنیا شاید آج سے بہت مختلف جگہ ہوتی"۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند