تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
آہوں، سسکیوں، بندشوں، کرفیو اور بندوقوں کے سائے میں اہل کشمیر کی عید
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 16 محرم 1441هـ - 16 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: منگل 11 ذوالحجہ 1440هـ - 13 اگست 2019م KSA 13:05 - GMT 10:05
آہوں، سسکیوں، بندشوں، کرفیو اور بندوقوں کے سائے میں اہل کشمیر کی عید
سری نگر ۔ ایجنسیاں، العربیہ ڈاٹ نیٹ

قابض بھارتی فوج نے بھارت کے زیرانتظام ریاست جموں و کشمیر کے طول عرض بالخصوص سری نگرجیسے مرکزی شہریوں میں مسلسل کرفیو لگا رکھا ہےسوموار کو عیدالاضحیٰ کے موقع پر بھارتی فوج کا کرفیو برقرار رہا۔ کشمیری عوام کے بڑے پیمانے پر مظاہروں سے خائف بزدل بھارتی فوج نے شہریوں کو ان کےگھروں کے اندر محصور کررکھا ہے۔

گذشتہ ہفتے کشمیرکی خصوصی حیثیت کے حوالے سے برسوں پرانے قانون کو ختم کرنے کے فیصلے کے بعد مقبوضہ وادی میں لاک ڈائون جاری ہے۔

بھارتی حکومت کے اقدام کے خلاف کنٹرول لائن کے دونوں اطراف میں موجود کشمیری عوام نئی دہلی کے خلاف سخت غم وغصے میں ہے۔ مسلمان اکثریتی ریاست کے باشندے اپنی آزادی کی جد وجہد کررہے ہیں جب کہ پاکستان بھی ریاست جموں وکشمیر اپنی بالادستی کا دعوٰیٰ کرتا ہے۔ کشمیرکے خصوصی اسٹیٹس کے حوالے سے آرٹیکل 370 اور 35 اے میں ریاست میں بھارت اور پاکستان کے باشندے جائیدادوں کے مالکانہ حقوق حاصل کرنے کے مجاز نہیں مگر بھارت نے اب اس شق کو ختم کردیا ہے۔

سوموار کے روز بھارتی فوج کی طرف سے مسلط کردہ پابندیاں توڑ کرسیکڑوں افراد عید کی نماز کے لیے کھلے میدانوں میں جمع ہوئے جہاں انہوں نے بھارت مردہ باد کے نعرے لگائے۔ جمعہ کو کشمیر میں بہت بڑے عوامی مظاہروں کا امکان تھا مگر بھارتی کرفیو کے باعث شہریوں کو گھروں سے نکنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ گھر سے نکلنے کہ کوشش کرنے والے کشمیریوں کو فوری گولی مارنے کا حکم دیا گیا۔

اتوار اور سوموار کو کشمیر کے مختلف شہریوں میں لوگ پابندیاں توڑ کرباہر نکل آئے۔ انہوں نے بھارتی فوج پر سنگ باری کی۔ بھارتی وزارت داخلہ کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وادی میں سنگ باری کے اکا دکا واقعات سامنے آئے ہیں جو کہ بہت معمولی ہیں۔

وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ سری نگر کے بعض حساس مقامات پر لوگوں کے اجتماعات پرپابندی عاید کی گئی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا سوموار کے روز لوگوں کی بڑی تعداد مساجد میں جمع ہوئی ۔ حکومت کی طرف سے لوگوں کو مساجد میں جمع ہونے کی محدود اجازت دی گئی تھی۔ اس موقع پر لوگوں کی فہرستیں جاری کی تھیں جنہیں گھروں سے نکل کر مساجد میں عید کی نماز کے لیے آنے کی اجازت دی گئی تھی۔

حکومت کی طرف سے شہریوں سے کہا گیا تھا کہ وہ سڑکوں پر نکلنے کےت بجائے عید کے لیے مساجد میں جائیں۔

مقبوضہ کشمیر میں مسلسل 8 ویں روز بھی مواصلاتی روابط منقطع ہیں۔ انٹرنیت، موبائل فون اور دیگر زمینی مواصلاتی روابطے درہم برہم ہیں۔ بھارت نے اس دوران 300 اہم رہ نمائوں کو حراست میں لے رکھا ہے یا انہیں نظر بند کیا گیا ہے۔

بازار بند ہیں اور لوگوں کے گھروں میں بنیادی استعمال کی اشیاء کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے۔ بیماروں کے علاج معالجے اور ان کی طبی معاونت کا کوئی ذریعہ نہیں۔

خبر رساں ادارے'رائیٹرز' کی طرف سے سری نگر اور دوسرے شہروں کی صورت حال پرروشنی ڈالی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ سب سے زیادہ لاک ڈائوب سری نگر شہر میں ہے۔ دو پولیس افسروں نے نام ظاہرنہ کرنے کی شرط پربتایا کہ سری نگرمیں مکمل کرفیو لگایا گیا ہے۔

کشمیری قیادت نے وادی کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے قانون کے خاتمے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس کے خلاف مزاحمت کا اعلان کیا ہے۔ کشمیری عوام اپنے حق خود اردایت کے حصول کے لیے 30 سال سے جدو جہد کررہے ہیں اور اس دوران اب تک 50 ہزار افراد کو شہید کیا جا چکا ہے۔

سری نگرکے شہریوں کو عیدالاضحٰی پرقربانی کی اجازت نہیں دی گئی۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ پابندیوں کی زندگی میں عید نہیں مناسکے ہیں۔

ایم عمر رسیدہ کشمیر خاتون انیسہ شافی نے کہا کہ ہم کس چیز کی خوشی منائیں۔ ہمیں اپنے عزیزو اقارب سے دور کردیا گیا ہے، ہم عید پر ایک دوسرے کو عید کی مبارک باد بھی پیش نہیں کرسکے ہیں۔ہم عید کے لیے کوئی شاپنگ نہیں کرسکے تو کس بات کی عید یا اس کی خوشی ہوسکتی ہے؟۔

ایک تصویر میں ایک شہری کو بند دکان کے قریب سے گذرتے دیکھا جاسکتا ہے جس پر لکھا ہے کہ بھارتی پابندیوں کے خاتمے تک دکان بند ہے۔

نئی دہلی میں ایک کشمیری نوجوان کو آہ و بکا کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند