تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
بھارتی سپریم کورٹ کا کشمیر پر دائر درخواست کو فوری نمٹانے سے انکار
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 18 محرم 1441هـ - 18 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: بدھ 12 ذوالحجہ 1440هـ - 14 اگست 2019م KSA 13:17 - GMT 10:17
بھارتی سپریم کورٹ کا کشمیر پر دائر درخواست کو فوری نمٹانے سے انکار

بھارتی سپریم کورٹ نے بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں حکومتی پابندیوں کے خلاف دائر کردہ درخواست پر کوئی فوری حکم جاری کرنے سے انکار کر دیا اور سماعت دو ہفتے کے لیے ملتوی کر دی ہے۔

سپریم کورٹ کے جج جسٹس ارون مشرا کی قیادت میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے کہا، ''صورتحال ایک دم سے ٹھیک نہیں ہو سکتی۔ کسی کو پتہ نہیں کہ ہو کیا رہا ہے۔ اس لیے حکومت کو اپنا کام کرنے کے لیے موقع دینا ہو گا۔ یہ ایک حساس معاملہ ہے۔‘‘

عدالت نے یہ ریمارکس حزب اختلاف کی جماعت کانگریس پارٹی کے رہنما تحسین پونے والا کی درخواست پر سماعت کے دوران دیے تھے۔ درخواست میں گزارش کی گئی ہے کہ بھارتی کشمیر میں نافذ کرفیو، مواصلاتی رابطوں کی معطلی اور ٹی وی چینلز کی بندش ختم کی جائے۔

پٹیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ کشمیر کی سیاسی قیادت کو رہا کیا جائے اور بھارتی حکومت کی طرف سے ملکی آئین کے آرٹیکل 370 کے خاتمے پر ایک عدالتی کمیشن قائم کیا جائے۔

بھارتی حکومت کی طرف سے اٹارنی جنرل کے کے ونوگوپال نے عدالت کو بتایا کہ حکومت کشمیر کی صورتحال کا روزانہ کی بنیاد پر جائزہ لے رہی ہے۔ انہوں نے کہا، ”ہمیں توقع ہے کہ حالات جلد ٹھیک ہو جائیں گے۔‘‘ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ کشمیر میں پابندیاں امن عامہ کی خاطر لگائی گئی ہیں۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں چار اگست کی شب سے کرفیو جیسی صورتحال ہے۔ پچھلے نو دنوں سے حکام نے وادی کشمیر کے مواصلاتی رابطے منقطع کر رکھے ہیں اور لوگوں کو اپنے پیاروں کی خیریت معلوم کرنے میں دشواری کا سامنا ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند