تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
یو این سلامتی کونسل: ’بھارت، پاکستان کشمیر میں یکطرفہ کارروائی سے گریز کریں‘
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 16 ربیع الاول 1441هـ - 14 نومبر 2019م
آخری اشاعت: جمعہ 14 ذوالحجہ 1440هـ - 16 اگست 2019م KSA 22:43 - GMT 19:43
یو این سلامتی کونسل: ’بھارت، پاکستان کشمیر میں یکطرفہ کارروائی سے گریز کریں‘
العربیہ ڈاٹ‌ نیٹ، ایجنسیاں

اقوام متحدہ میں چین کے مستقبل مندوب ژانگ جن نے کہا ہے کہ سلامتی کونسل کے اجلاس نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں چین کے مستقل نمائندے نے کہا کہ اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری نے بھی مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔

خیال رہے کہ پاکستان کے مطالبے پر مسئلہ کشمیر پر غور کرنے کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) کا تاریخی مشاورتی اجلاس ہوا تھا۔ یہ 50 سال میں پہلا موقع تھا جب خصوصی طور پر پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری تنازع پر غور کے لیے سلامتی کونسل کا اجلاس طلب کیا گیا تھا۔ سلامتی کونسل کا یہ اجلاس بند کمرہ اجلاس تھا، جس میں بھارت کے زیر انتظام جموں وکشمیر کی صورتحال پر بریفنگ دی گئی تھی۔

اس اجلاس کے بعد چینی مندوب نے انہوں نے بتایا کہ سیکیورٹی کونسل کے اجلاس میں اراکین نے بھارت کے زیر نگیں جموں کشمیر کی موجودہ صورتحال اور وہاں انسانی حقوق کی صورتحال پر بھی تشیوش کا اظہار کیا، ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ کشمیر سے متعلق بھارت کا یکطرفہ اقدام پہلے سے کشیدہ صورتحال کو مزید خراب کرسکتا ہے۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ چین کا موقف ہے کہ جموں اور کشمیر کا معاملہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک طویل عرصے سے ہے لیکن اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ تنازع ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے اپنے زیر انتظام کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے سے متعلق آئینی ترمیم کے اقدام خطے میں کشیدگی کا باعث بنا ہے۔ چینی مندوب کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کے چارٹر، قرادادوں اور دوطرفہ معاہدوں کے مطابق پرامن طریقے سے حل ہونا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس تمام صورتحال، اقدام پر تشویش ہے اور کوئی بھی یکطرفہ اقدام مزید پیچیدگی کا باعث بنے گا، لہٰذا چین متعلقہ فریقین سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور کوئی ایسا اقدام اٹھانے سے گریز کریں جس سے حالات مزید خراب ہوں کیونکہ اس اقدام کے بعد صورتحال پہلے ہی بہت کشیدہ اور خطرناک ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ بھارت کے اقدام نے چین کی خودمختاری کو بھی چیلنج کیا اور دوطرفہ معاہدوں، سرحدی علاقوں میں امن و استحکام کو برقرار رکھنے کے معاہدوں کی خلاف ورزی کی ہے اور چین کو اس پر سخت تحفظات ہیں۔

چینی مندوب نے کہا کہ ہم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ بھارت کے اس طرح کے یکطرفہ اقدامات چین کے ساتھ تعلقات کے لیے قابل عمل نہیں ہیں۔ اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت دونوں چین کے پڑوسی ہیں اور پاکستان اور بھارت ترقی کے اہم مراحل میں ہیں۔

پاکستان کا موقف

چینی نمائندے کی میڈیا بریفگ کے بعد اقوام متحدہ کے لیے پاکستان کی مندوب ملیحہ لودھی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک اقوام متحدہ کا شکرگزار ہے کہ پاکستان اور چین کی درخواست کے 72 گھنٹوں کے اندر کشمیر کی صورت حال پر اجلاس بلا لیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک ایسے وقت میں جب کشمیریوں کو لاک ڈاؤن کر دیا گیا ہے، دنیا کے ایک اہم عالمی فورم پر ان کی آواز سنی گئی۔ ملیحہ لودھی نے کہا کہ پاکستان اس دیرینہ مسئلے کے پرامن حل کے سلسلے میں بات چیت کے لیے تیار ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بھارتی اقدام کے بعد آج پوری دنیا اس پر بات کر رہی ہے اور وہاں پر بھارتی قبضے کی صورت حال میں کشمیریوں کے حالات زیر بحث آ رہے ہیں۔ ملیحہ لودھی نے کہا کہ پاکستان کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہے اور ان کے لیے ہر فورم پر آواز اٹھاتا رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ سیکورٹی کونسل کا آج کا اجلاس اس بات کا ثبوت ہے کہ کشمیر ایک متنازع علاقہ ہے اور دنیا نے بھارت کے یک طرفہ اقدام کو تسلیم نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر پر سیکورٹی کونسل کی قرار دادیں موجود ہیں اور آج پچاس برس بعد بھی سلامتی کونسل میں کشمیر پر بات ہو رہی ہے۔ کیونکہ دنیا بھارت کے دعوے کو تسلیم نہیں کرتی۔

بھارت کا موقف

ڈاکٹر ملیحہ لودھی کے کچھ دیر کے بعد بھارت کے سفارت کار سید اکبرالدین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمر میں آرٹیکل 370 کا نفاذ بھارت کے آئین کے تحت ایوان نمائندگان نے کیا تھا اور انہوں نے ہی آئین کے تحت اسے ختم کیا۔ یہ بھارت کا اندرونی معاملہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کے حقوق اور ترقی کے لیے پرامن ماحول کی ضرورت ہے۔ کشمیر میں حالیہ پابندیاں امن و امان اور لوگوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے لگائی گئی تھیں جنہیں اب بتدریج اٹھایا جا رہا ہے اور اس کا اعلان کشمیر کے چیف سیکرٹری نے کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت نے ہمیشہ مسائل کو بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا ہے۔ لیکن یہ بات چیت امن کے ماحول میں ہونی چاہیے نہ کہ دہشت گردی کے دباؤ میں۔ انہوں نے پاکستان کا نام لیے بغیر کہا کہ ایک ریاست جہاد کو فروغ دے کر کشمیر میں بدامنی پھیلانے کا کام کر رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت کشمیر میں امن قائم کرنا چاہتا ہے اور اسے ترقی دینا چاہتا ہے اور اسی لیے آرٹیکل 370 کو ختم کیا گیا ہے۔ دنیا بھی چاہتی ہے کہ کشمیر میں امن قائم ہو۔

سید اکبرالدین کا کہنا تھا کہ تنازع کے حل کے لیے بھارت اور پاکستان کے درمیان 1972 میں شملہ معاہدہ ہوا تھا۔ بھارت اب بھی اس معاہدے کے تحت بات چیت کے ذریعے تنازع کے حل کے لیے تیار ہے، لیکن دہشت گردی سے پاک پرامن ماحول میں۔

بھارتی سفارت کار نے بریفنگ کے بعد صحافیوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے مسائل کے حل کے لیے پرامن ماحول میں بات چیت سے متعلق اپنے ملک کے موقف کا اعادہ کیا۔

عمران خان کا ٹرمپ کو فون

ادھر اجلاس سے پہلے وزیراعظم عمران خان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا اور مختلف امور پر بات چیت کی گئی۔

اپنے ایک ویڈیو پیغام میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ عمران خان اور ڈونلڈٹرمپ کے مابین گفتگو کا دورانیہ طویل تھا اور اس میں خطے کی مجموعی صورتحال، خاص طور پر مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ عمران خان نے امریکی صدر کو پاکستان کے موقف سے آگاہ کیا اور انہیں اعتماد میں لیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے اجلاس سے قبل وزیراعظم نے امریکی صدر کو مقبوضہ وادی کی مخدوش صورتحال سے بھی آگاہ کیا۔
 

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند