تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
شمالی کوریا کا صدر کِم کی نگرانی میں میزائلوں کا ایک اور’کامیاب‘ تجربہ
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 16 محرم 1441هـ - 16 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: ہفتہ 15 ذوالحجہ 1440هـ - 17 اگست 2019م KSA 09:44 - GMT 06:44
شمالی کوریا کا صدر کِم کی نگرانی میں میزائلوں کا ایک اور’کامیاب‘ تجربہ
شمالی کوریا کے لیڈر کِم جونگ اُن میزائل تجربے کی نگرانی کر رہے ہیں۔
سیول ۔ ایجنسیاں

شمالی کوریا کے لیڈر کِم جونگ اُن نے ایک مرتبہ پھر ایک اور’’نئے ہتھیار‘‘ کے تجربے کی نگرانی کی ہے۔شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا نے ہفتے کے روز میزائلوں کے اس نئے تجربے کی اطلاع دی ہے اور یہ اس کا حالیہ ہفتوں کے دوران میں چھٹا تجربہ ہے۔

وہ امریکا اور جنوبی کوریا کی مشترکہ سالانہ جنگی مشقوں کے ردعمل میں احتجاج کے طور پر وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے تجربات کررہا ہے۔پیانگ یانگ ان دونوں ملکوں کی مشترکہ مشقوں کو چڑھائی کے لیے تیاری گردان رہا ہے۔

جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول میں دفاعی حکام کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا نے جمعہ کو مختصر فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹکوں میزائلوں کا تجربہ کیا ہے۔انھوں نے کوئی 230 کلومیٹر (140میل) تک اڑان کی تھی اور اس کے بعد جزیرہ نما کوریا اور جاپان کے درمیان واقع سمندر میں جا گرے تھے۔

شمالی کوریا کی سرکاری، کوریائی مرکزی خبررساں ایجنسی (کے سی این اے) کی ایک رپورٹ کے مطابق ’’ان تجربات سے ٹھیک ٹھیک نتائج حاصل ہوئے ہیں اور ان سے ہتھیاروں کے اس نظام پر اعتماد میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ جوشے شیل (میزائل) سپریم لیڈر کی موجودگی میں چھوڑے گئے تھے۔‘‘

پیانگ یانگ امریکا اور جنوبی کوریا کی جنگی مشقوں پر گاہے گاہے اپنے غیظ وغضب کا اظہار کرتا رہتا ہے لیکن وہ ماضی میں مشقوں کے دوران میں میزائلوں کے تجربات سے گریز کرتا رہا ہے۔

امریکا اور شمالی کوریا کے درمیان خطے کو جوہری ہتھیاروں سے پاک بنانے کے لیے بات چیت جون میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صدر کِم سے ملاقات کے بعد سے تعطل کا شکار ہے۔تاہم صدر ٹرمپ نے پیانگ یانگ کے میزائل تجربات پرکسی سخت ردعمل کا اظہار نہیں کیا ہے اور انھوں نے گذشتہ ہفتے کم جونگ اُن کی طرف سے بھیجے گئے ایک ’’بہت ہی خوب صورت خط‘‘ کے موصول ہونے کی اطلاع دی تھی۔انھوں نے صدر کم کی جنگی مشقوں کی مخالفت کی بھی تائید کی تھی۔البتہ انھوں نے فوجی کے بجائے معاشی وجوہ کی بنا پر ان مشقوں کی مخالفت کا اظہار کیا تھا۔

دریں اثنا امریکا کے محکمہ خارجہ نے یہ اطلاع دی ہے کہ شمالی کوریا کے لیے خصوصی ایلچی اسٹیفن بائیجن آیندہ ہفتے جاپان اور جنوبی کوریا کا دورہ کریں گے اور وہ ان دونوں ملکوں کے حکام سے شمالی کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے بارے میں بات چیت کریں گے۔

شمالی کوریا کا یہ موقف رہا ہے کہ جوہری ہتھیاروں سے متعلق بات چیت صرف پیانگ اور واشنگٹن کے درمیان ہونی چاہیے اور وہ جنوبی کوریا کے ساتھ الگ سے بات چیت سے انکار کرچکا ہے۔اس نے گذشتہ روز ایک بیان میں کہا تھا کہ ہمارے پاس جنوبی کوریا کے حکام سے بات چیت کے لیے مزید کچھ نہیں ہے اور نہ ان کے ساتھ مزید مل بیٹھنے سے متعلق کوئی آئیڈیا ہے۔

واضح رہے کہ امریکا جنوبی کوریا کا خطے میں فوجی اتحادی ہے اور اس وقت جنوبی کوریا میں ہمسایہ ممالک سے دفاع کے لیے قریباً تیس ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند