تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
نائیجرین شیعہ عالم دین ابراہیم زکزکی بھارت سے بغیر علاج واپس
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 16 محرم 1441هـ - 16 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: ہفتہ 15 ذوالحجہ 1440هـ - 17 اگست 2019م KSA 07:03 - GMT 04:03
نائیجرین شیعہ عالم دین ابراہیم زکزکی بھارت سے بغیر علاج واپس
ابراہیم یعقوب الزکزکی
دبئی ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ

علاج کی غرض سے بھارت آنے والے نائجیریا کی شیعہ تنظیم اسلامک موومنٹ کے رہنما شیخ ابراہیم الزکزکی ملک میں تین روز قیام کر کے واپس وطن پہنچ گئے ہیں۔ انہوں نے بھارتی حکام پرعدم تعاون اور علاج کی آڑ میں بلیک میلنگ کی کوشش کا الزام عاید کیا ہے۔

الشیخ زکزکی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ شیعہ رہ نما بھارت میں علاج نہ ہونے کے بعد اب ترکی، ملائیشیا یا انڈونیشیا میں سے کسی ملک کا رخ کریں گے۔

واضح رہے کہ نائجیریا میں حکام نے سنہ 2015 سے شیخ ابراہیم الزکزکی کو حراست میں لیا ہوا تھا اور گذشتہ ہفتے ہی انھیں علاج کی غرض سے ملک چھوڑنے کی اجازت دی تھی۔

یہ اجازت گذشتہ ماہ شمالی نائجیریا کے شہر کاڈونا کی ایک عدالت کی جانب سے شیخ الزکزکی کو علاج کے لیے ملک سے باہر لے جانے کا حکم سامنے آنے کے بعد دی گئی تھی۔

تاہم شیخ ابراہیم الزکزکی کی جانب سے کہا گیا کہ بھارت چھوڑنے کی وجہ وہاں مبینہ طور پر غیر تسلی بخش علاج تھا۔ خبروں کے مطابق شیعہ رہنما نے کہا کہ وہ اسپتال جہاں ان کا علاج کیا جا رہا تھا، اُس کی حالت نائجیریا کے اسپتالوں سے بھی زیادہ بری تھی۔

نائجیریا کے نجی ذرائع نے بتایا کہ شیخ ابراہیم الزکزکی کی وطن واپسی کی وجہ نائجیرین حکومت کی جانب سے ان کے علاج معالجے میں رکاوٹیں پیدا کرنا بنا۔ اس کے علاوہ بھارتی حکومت نے انہیں بیماری کے حوالے سے غلط معلومات فراہم کیں۔

ابوجا میں گذشتہ ہفتے میں ہونے والے پرتشدد مظاہروں میں اسلامک موومنٹ آف نائجیریا سے منسلک متعدد مظاہرین ہلاک ہو گئے تھے

شیخ ابراہیم الزکزکی کو سنہ 2015 میں ملک کی شمالی ریاست کاڈونا میں اپنے حامیوں اور فوج کے درمیان جھڑپ کے بعد اقدام قتل اور امن عامہ میں خلل ڈالنے کے جرم میں گرفتار کیا گیا تھا۔

ان جھڑپوں میں کالعدم شیعہ اسلامک موومنٹ کے 347 اراکین ہلاک ہوئے تھے جبکہ سیکڑوں مظاہرین کو گرفتار کیا گیا جن میں شیخ الزکزکی اور ان کی اہلیہ بھی شامل تھیں۔

زکزکی کے حامی ان کی رہائی کے لیے نائجیریا کے دارالحکومت ابوجا میں باقاعدگی سے مظاہرے کرتے رہے ہیں جن میں پُرتشدد واقعات بھی پیش آئے ہیں۔

شیخ ابراہیم الزکزکی اور اسلامک موومنٹ

ابراہیم یعقوب الزکزکی 5 مئی 1953 کو زاریا، افریقہ میں ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوئے۔

شیخ ابراہیم زکزکی کا تعلق ملت جعفریہ نائیجیریا سے ہے۔ شیعہ وسنی مسلمان ان سے بلاتفریق عقیدت رکھتے ہیں، حتیٰ کہ مقامی عیسائی بھی انھیں قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

شیخ زکزکی خود امام خمینی کے افکار سے متاثر ہو کر شیعہ اثنا عشری ہوئے اور پھر اپنے افکار کی تبلیغ جاری رکھی۔

نائجیریا کی شیعہ اسلامک موومنٹ کو، جس کی قیادت شیخ زکزکی کرتے ہیں، ملک میں کالعدم قرار دیا جا چکا ہے اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کے مطابق سنہ 2015 سے نائجیریا کے حکام اسلامک موومنٹ کے خلاف بہت زیادہ طاقت کا استعمال کر رہے ہیں۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند