تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
سری نگر میں جھڑپوں کے بعد دوبارہ کرفیو نافذ ،24 افراد زخمی
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 16 محرم 1441هـ - 16 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: اتوار 16 ذوالحجہ 1440هـ - 18 اگست 2019م KSA 15:23 - GMT 12:23
سری نگر میں جھڑپوں کے بعد دوبارہ کرفیو نافذ ،24 افراد زخمی
سری نگر۔ ایجنسیاں

بھارت کے زیر انتظام متنازع ریاست مقبوضہ جموں وکشمیر کے گرمائی دارالحکومت سری نگر میں حکام نے اتوار کو شہریوں کی نقل وحرکت پر دوبارہ پابندی عاید کردی ہے۔دو سینیر عہدے داروں کے مطابق یہ اقدام ہفتے کی شب شہر کے مکینوں اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد کیا گیا ہے۔

گذشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران میں کشمیریوں نے بھارتی حکومت کے پانچ اگست کے اقدام کے خلاف متعدد احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔بھارتی حکومت نے مقبوضہ ریاست جموں وکشمیر کو آئین کے تحت حاصل خصوصی خود مختاری ختم کردی تھی۔ اہل کشمیر تب سے اس فیصلے کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔

ریاستی حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے گذشتہ دو ہفتے کے دوران میں کرفیو نافذ نہیں کیا لیکن سکیورٹی فورسز نے سری نگر شہر میں جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کرکے سڑکیں بند کررکھی تھیں اور آج شہر کے مختلف علاقوں میں ان بند سڑکوں سے شہریوں کو واپس بھیج دیا تھا اور انھیں شہر میں آزادانہ نقل وحرکت کی اجازت نہیں دی۔سکیورٹی فورسز کا کہنا تھا کہ یہاں کرفیو نافذ ہے۔

دو سینیر سرکاری عہدے داروں نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ رات سری نگر کے قدیم حصے میں مظاہروں کے دوران جھڑپوں میں چوبیس افراد زخمی ہوگئے تھے اور انھیں اسپتالوں میں منتقل کردیا گیا ہے۔ان میں زیادہ تر پتھراؤ اور سکیورٹی فورسز کی پیلٹ گولیاں لگنے سے زخمی ہوئے تھے۔

عینی شاہدین اور بھارتی حکام کے مطابق رات سری نگر کے علاقوں ریناواڑی ، نوہٹہ ،صورا اور گوجواڑا میں سکیورٹی فورسز اور کشمیری مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئی تھیں۔بھارتی فوجیوں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کے گولے اور مرچ آلود دستی بم پھینکے تھے۔اس کے علاوہ ان پر پیلٹ گولیاں چلائی تھیں۔ مرچ آلود گرینیڈوں میں بہت تیز مرچیں ہوتی ہیں اور ان سے آنکھیں اور جلد شدید متاثر ہوتی ہے۔

سری نگر کے مرکزی اسپتال میں حکام نے بتایا ہے کہ ان کے ہاں سترہ زخمی افراد کولایا گیا تھا۔ان میں بارہ کو ابتدائی طبی امداد کے بعد فارغ کردیا گیا ہے اور پانچ شدید زخمی ابھی اسپتال میں داخل ہیں۔ان میں بعض ضعیف العمر افراد کو مرچ آلود دستی بموں اور اشک آور گیس کی وجہ سے سانس لینے میں شدید دشواری کا سامنا تھا۔ہفتے کی شب سری نگر کے علاقے براری پورہ سے تعلق رکھنے والا ایک پینسٹھ سالہ شخص محمد ایوب اپنے زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ گیا تھا۔مرچ آلود دستی بموں اور اشک آور گیس سے اس کا نظام تنفس شدید متاثر ہوا تھا۔

واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں گذشتہ تیرہ روز سے انٹرنیٹ اور سیل فون کی سروس بند ہے۔ البتہ لینڈ لائن ٹیلی فون کو آج بعض حصوں میں بحال کردیا گیا ہے اور حکام کا کہنا ہے کہ بیشتر ٹیلی فون ایکس چینج رات تک کام کرنا شروع کردیں گی۔

بھارتی سکیورٹی فورسز نے گذشتہ بارہ روز کے دوران میں پانچ سو سے زیادہ سیاسی اور کمیونٹی لیڈروں کو حراست میں لیا ہے۔ان میں سے بیشتر ابھی تک زیر حراست ہیں اور بعض کو ریاست سے باہر بھارت کے دوسرے شہروں میں جیلوں میں منتقل کردیا گیا ہے۔

بھارتی حکومت نے پانچ اگست کو متنازع ریاست مقبوضہ جموں وکشمیر کو حاصل خصوصی آئینی حیثیت ختم کردی تھی۔اب نئی تبدیلی کے تحت ریاست کے غیر رہائشی بھی وہاں جائیدادیں خرید کرسکتے ہیں۔حریت پسند کشمیری رہ نماؤں کا کہنا ہے کہ اس اقدام کے ذریعے مسلم اکثریتی ریاست میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند