تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ایرانی سپر ٹینکر جبل الطارق سے یونانی جزیرے کالاماتا کی جانب روانہ
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 18 محرم 1441هـ - 18 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: پیر 17 ذوالحجہ 1440هـ - 19 اگست 2019م KSA 08:31 - GMT 05:31
ایرانی سپر ٹینکر جبل الطارق سے یونانی جزیرے کالاماتا کی جانب روانہ
سپر ٹینکر پر ایرانی پرچم لہرا دیا گیا۔ نیز جہاز پر گریس۔۱ کی جگہ اس کا نیا نام [ادریان داریا۱] تحریر کر دیا گیا
العربیہ ڈاٹ نیٹ، ایجنسیاں

سوموار کی صبح ایرانی سپر ٹینکر گریس۔۱ کے حوالے سے ملنے والے ڈیٹا کے مطابق جہاز نے اپنی سمت تبدیل کر لی ہے اور اب اس کی نئی منزل یونان کا جزیزہ کالاماتا بتائی جاتی ہے۔

جہاز کے سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گریس۔۱ برطانوی علاقے جبل الطارق سے مقامی وقت رات ۱۱ بجے روانہ ہوا۔

جبل الطارق حکام نے سپر آئیل ٹینکر کو چار جولائی کو اس وقت تحویل میں لیا جب وہ جنوب کی جانب محو سفر تھا کیونکہ برطانوی حکام نے امریکا کی جانب سے ٹینکر کو دوبارہ تحویل میں لینے کی درخواست ماننے سے انکار دیا تھا۔ امریکا نے الزام عاید کیا تھا کہ جہاز نے تہران پر عاید امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی ’’اے ایف پی‘‘ نے فی الحال جبل الطارق پورٹ سے بحری جہاز کی روانگی کی تصدیق نہیں کی۔

جبل الطارق حکام نے واشنگٹن، تہران اور لندن کے درمیان جاری بحران میں دوسری مرتبہ امریکا کی درخواست ماننے سے انکار کیا ہے۔

اس سے قبل اتوار کے روز جبل الطارق حکومت نے ایرانی جہاز کو ضبط کرنے سے متعلق امریکی درخواست ماننے سے انکار کر دیا تھا جبکہ جہاز نے ایرانی پرچم لہرا دیا اور جہاز کے پہلو پر اس کا نیا نام تحریر کر دیا گیا۔

جبل الطارق حکام کے بیان میں کہا گیا تھا کہ ’’یورپی قانون کے مطابق مقامی حکام امریکی درخواست پر عمل درآمد کی پوزیشن میں نہیں ہیں جبکہ واشنگٹن چاہتا ہے کہ ایران پر عاید امریکی پابندیوں کی بنا پر جہاز ضبط کر لیا جائے۔‘‘

بیان کے مطابق امریکا نے اس دوران جہاز ضبطی کی متعدد بار اپیل کی اور امریکی وزارت انصاف نے ایران پر عاید امریکی پابندیوں کی روشنی میں اسے ضبط کرنے کی کئی بار درخواست کی۔

لندن میں ایرانی سفیر نے بتایا تھا کہ تحویل میں لیا جانے والا ایرانی سپر ٹینکر اتوار کے روز جبل الطارق سے روانہ ہو جائے گا۔

جولائی کے مہینے میں برطانوی شاہی میرینز نے ایرانی جہاز کو جبل الطارق میں اس شبے میں تحویل میں لے لیا تھا کہ وہ ایران کے پکے اتحادی شام کے لیے تیل سپلائی لے کر جا رہا تھا۔ یہ اقدام ایران پر یورپی یونین کی پابندیوں کی خلاف ورزی شمار تصور کیا گیا۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند