تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ٹرمپ نے نیویارک ٹائمز کو بُری صحافت کا آئینہ دار قرار دیا
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 18 محرم 1441هـ - 18 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: پیر 17 ذوالحجہ 1440هـ - 19 اگست 2019م KSA 15:28 - GMT 12:28
ٹرمپ نے نیویارک ٹائمز کو بُری صحافت کا آئینہ دار قرار دیا
العربیہ ڈاٹ نیٹ – عماد البليک

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنی تنقید کی توپ کا رخ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی جانب کر دیا ہے۔ اس بار انہوں نے اخبار پر غیر منصفانہ کوریج کے ذریعے نسل پرستی کا رجحان بھڑکانے کا الزام عائد کیا ہے۔

اتوار کے روز ٹرمپ نے اپنی سلسلہ وار ٹویٹس میں لکھا کہ "ناکام سے دوچار نیویارک ٹائمز سب سے زیادہ خرابی پیدا کرنے والے اخبارات میں سے ہے اور یہ تاریخ میں بدترین صحافت کا ایک نمونہ ثبت کر رہا ہے"۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ "اس اخبار کی اِفشا معلومات نے انکشاف کیا ہے کہ یہ روس کی ساز باز کی جھوٹی کہانی سے منتقل ہو کر اب جادوگروں کے نسل پرستی پر مبنی تعاقب کی جانب جا رہا ہے"۔

ٹرمپ نے روسی ساز باز کے معاملے کو "جادوگروں کے تعاقب" کا نام دیا تھا۔

ٹرمپ نے نیویارک ٹائمز کے متعلق کہا کہ "یہ اخبار ہماری ملکی تاریخ میں گراوٹ کی ایک نئی سطح پر پہنچ چکا ہے۔ یہ ڈیموکریٹک پارٹی کے لیے کام کرنے والی ایک شر انگیز پروپیگنڈا مشین سے زیادہ کچھ نہیں۔ اس کی رپورٹیں بے بنیاد ، جانب دار اور شرانگیز ہیں۔ یہاں تک کہ اب یہ نہایت شرم ناک مذاق کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ عوام اس امر سے واقف ہیں"۔

اس کے بعد ایک ٹویٹ میں ٹرمپ نے لکھا کہ "(میری) اس انتظامیہ کی تمام تر کامیابیوں کے ساتھ آپ یہ سوچیے کہ اگر ہمارے ہاں شفاف میڈیا ہوتا تو پھر میرے بارے میں سروے رپورٹ کا نتیجہ کیا ہوتا۔ مگر ایسا میڈیا مفقود ہے"۔

گذشتہ ہفتے نیویارک ٹائمز نے اپنی منگل کی اشاعت میں پہلے صفحے پر شہ سُرخی کو تبدیل کر دیا تھا۔ یہ سرخی ٹیکساس اور اوہایو میں پیش آنے والے واقعات پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ردّ عمل سے متعلق تھی۔ ان واقعات میں 31 لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔

اصل سرخی اس طرح تھی : " ٹرمپ کا نسل پرستی کے مقابلے میں یک جہتی پر زور"

اس سرخی نے عوام، صحافیوں بالخصوص متعدد ڈیموکریٹس کا غصہ بھڑکا دیا۔ ان میں 2020 کے صدارتی انتخابات کے لیے بہت سے امیدوار بھی شامل ہیں۔

اخبار کے پہلے صفحے پر اس سرخی کے نمودار ہونے کے تقریبا ایک گھنٹے بعد مذکورہ سرخی میں ترمیم کر دی گئی۔ بعد ازاں اخبار کی مطبوعہ کاپیوں میں متبادل شہ سرخی اس طرح تھی :

" ٹرمپ کی ہتھیاروں پر نہیں نفرت انگیزی پر نکتہ چینی"...

امریکی جریدے سلیٹ کے مطابق نیویارک ٹائمز کے ایڈیٹر Dean P. Baquet نے نیوز روم کے ایک اجلاس میں کہا کہ مذکورہ سرخی ایک "انارکی کی حالت" تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ واقعتا ایک بڑی مشکل ہے اور نیوز رومز کو 1960ء کی دہائی سے اس طرح کی صورت حال کا سامنا نہیں ہوا"۔

ڈین کے مطابق یہ معاملہ اس بحث کے بعد زیادہ دشوار ہو گیا کہ آیا ٹرمپ کی انتخابی مہم کا روس کے ساتھ کوئی گٹھ جوڑ ہوا اور منصفانہ عمل میں رکاوٹ ڈالی گئی۔

اجلاس میں ڈین نے ایک موقع پر سوال کیا کہ "ہم امریکا کی خبروں کی کوریج کس طرح کریں جو ٹرمپ کے فعل سے انتہائی حد تک تقسیم ہو چکی ہیں؟"

ڈین نے مزید استفسار کیا کہ "ہم ان چیزوں کے ساتھ کس طرح لڑیں جن کے بارے میں آپ سب لوگ بات کرتے ہیں ؟ ہم نسلی موضوع پر سوچ سمجھ کر کس طرح لکھیں جب کہ یہ ایسا کام ہے جو ہم نے ایک طویل عرصے سے نہیں کیا ؟ میرے نزدیک یہ کوریج کی ایسی صورت ہے جس کا ویژن تشکیل دینے میں ہمیں مل کر تعاون کرنا چاہیے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند