تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
چاڈ کے مشرقی حصے میں درجنوں ہلاکتوں کے بعد ایمرجنسی نافذ
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 23 محرم 1441هـ - 23 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: پیر 17 ذوالحجہ 1440هـ - 19 اگست 2019م KSA 10:46 - GMT 07:46
چاڈ کے مشرقی حصے میں درجنوں ہلاکتوں کے بعد ایمرجنسی نافذ
چاڈ کے صدر ادریس دیبی
نجامينا – ایجنسیاں

چاڈ کے صدر ادریس دیبی نے اتوار کے روز ملک کی دو مشرقی ریاستوں میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان رواں ماہ کے دوران نسل پرست جماعتوں کے درمیان شدید جھڑپوں کے بعد سامنے آیا ہے۔

صدر کے دفتر کے مطابق ایمرجنسی کا نفاذ سیلا اور کوادائی کے علاقوں میں تین ماہ کے لیے ہو گا۔ یہاں نو اگست سے چرواہوں اور کاشت کاروں کے درمیان لڑائی میں 50 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

صدر دیبی نے اپنے سیلا کے دورے کے دوران ایک بیان میں کہا کہ "اب کے بعد سے ہم عسکری فورسز تعینات کریں گے تا کہ علاقے میں آبادی کی سیکورٹی کو یقینی بنایا جا سکے .. ہمیں تمام شہریوں کو غیر مسلح کرنا ہوگا"۔

چاڈ کے مشرقی علاقوں میں زاغاوا نسل سے تعلق رکھنے والے اونٹوں کے چرواہوں اور کوادیان نسل کے کاشت کاروں کے درمیان پرتشدد کارروائیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔ اس کے علاوہ خشک سالی اور آبادی کے اضافے نے بھی تنازع کو بڑھانے میں کردار ادا کیا ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند