تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
گردوں سے پتھری نکلوانے گئیں، مگر تین بچوں کی ماں بن کر ہسپتال سے لوٹیں
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 16 محرم 1441هـ - 16 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: پیر 17 ذوالحجہ 1440هـ - 19 اگست 2019م KSA 03:45 - GMT 00:45
گردوں سے پتھری نکلوانے گئیں، مگر تین بچوں کی ماں بن کر ہسپتال سے لوٹیں
تینوں صحت مند بچوں کی پیدائش 4 منٹ کے اندر ہوئی
ایجنسیاں

امریکی ریاست جنوبی ڈکوٹا سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون معدے میں شدید تکلیف کے باعث ہسپتال گئی اور اس کا خیال تھا کہ گردے کی پتھری کے باعث اسے سرجری کی ضرورت پڑسکتی ہے، مگر وہاں انکشاف ہوا کہ وہ حاملہ ہے۔

دھنیٹی گیلٹس نامی خاتون کو ماضی میں بھی گردوں میں پتھری کی تکلیف کا سامنا رہ چکا تھا اور یہی وجہ تھی کہ ہسپتال میں اس کے علاج کے لیے گئی مگر وہاں 3 بچوں کو جنم دیا۔

مقامی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے خاتون نے کہا 'مجھے شدید تکلیف کا احساس ہوا، مجھے لگا کہ یہ گردوں میں پتھری کی وجہ سے ہے کیونکہ مجھے پہلے بھی اس کا تجربہ ہوچکا تھا'۔

ہسپتال میں پیشاب کا ٹیسٹ کرایا گیا اور پھر علم ہوا کہ یہ گردوں میں پتھری نہیں بلکہ وہ 34 ہفتوں کی حاملہ ہیں اور جڑواں بچوں کی پیدائش ہوگی، مگر وہ 3 نکلے۔

تینوں بچوں کی پیدائش 4 منٹ کے اندر ہوئی جو صحت مند تھے اور لوگوں کی جانب سے خاندان کو بچوں کے استعمال کی متعدد اشیا بھی دی گئیں۔ اس جوڑے کے پہلے سے 2 بچے تھے اور اب نئے اضافے سے یہ 7 افراد کا خاندان بن گیا۔

خاتون کے مطابق 'عام طور پر 3 بچوں کی پیدائش قدرتی طور پر حمل ٹھہرنے سے نہیں ہوتی اور پھر 34 ہفتوں تک حمل کا علم بھی نہ ہوا، تو ہر ایک طرح مجھے بھی ڈاکٹروں سے یہ سن کر یقین نہیں آیا، ہم تو اب صدمے میں ہیں، میں ڈاکٹر کے پاس گردوں کی پتھری کی سرجری کا سوچ کر گئی اور وہاں لیبروم میں آپریشن سے بچوں کی پیدائش ہوئی'۔

طبی ماہرین کے مطابق کچھ خواتین کے ساتھ ایسا ہوتا ہے اور ان میں حمل کی روایتی علامات سامنے نہیں آتیں اور اس کا انحصار جسم میں ہڈیوں کی ساخت پر ہوتا ہے یا جسمانی طور پر بھاری خواتین میں بھی پیٹ نکلنا زیادہ واضح نہیں ہوتا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ گردوں میں پتھری کی متعدد علامات زچگی سے ملتی جلتی ہیں جس کے دوران پہلو اور کمر میں شدید درد ہوتا ہے جو لہروں کی شکل میں پھیلتا ہے۔


 

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند