تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ایرانی تیل بردار جہاز کی مدد "دہشت گردی کی حمایت" ہو گی: امریکا
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 18 محرم 1441هـ - 18 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: منگل 18 ذوالحجہ 1440هـ - 20 اگست 2019م KSA 14:19 - GMT 11:19
ایرانی تیل بردار جہاز کی مدد "دہشت گردی کی حمایت" ہو گی: امریکا
العربیہ ڈاٹ نیٹ – ایجنسیاں

امریکی وزارت خارجہ نے باور کرایا ہے کہ پیر کے روز جبل الطارق سے کوچ کر جانے والے ایرانی تیل بردار جہاز (گریس 1) کی مدد کو "دہشت گرد تنظیموں" کی حمایت کی نظر سے دیکھا جا سکتا ہے۔

امریکی وزارت خارجہ کے ایک ذمے دار نے پیر کے روز بتایا کہ ہم نے یونان کو آگاہ کر دیا کہ ایرانی تیل بردار جہاز غیر قانونی طور پر تیل کو شام منتقل کر رہا ہے .. ہم نے ایرانی تیل بردار جہاز کے حوالے سے اپنا مضبوط مخالف موقف یونانی حکومت کو پہنچا دیا۔

دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا کہنا ہے کہ طویل ہفتوں تک تحویل میں رکھنے کے بعد ایرانی تیل بردار جہاز کو کوچ کی اجازت دینا افسوس ناک ہے۔

فوکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے مزید کہا ک برطانیہ کے زیر انتظام ریجن کی حکومت کا فیصلہ "انتہائی افسوس ناک ہے"۔ پومپیو کے مطابق اس تیل بردار جہاز پر لدی کھیپ کی فروخت سے تہران کو ایرانی مسلح افواج کی فنڈنگ کا موقع ملے گا جنہوں نے دنیا بھر میں دہشت اور تباہی پھیلانے کے ساتھ ساتھ امریکیوں کو قتل کیا۔

جبل الطارق کی حکومت نے اتوار کے روز اپنے ساحل کے مقابل ٹھہرے ہوئے ایرانی تیل بردار جہاز کے خلاف امریکی وارنٹ کو مسترد کر دیا تھا۔

ایرانی تیل بردار جہاز نے اپنے ملک کا پرچم لہرایا اور ایک نئے نام کا حامل بن گیا۔

جبل الطارق کے حکام نے ایک بیان میں کہا کہ "یورپی قانون کے مطابق جبل طارق کی حکومت امریکا کی جانب سے مطلوب مدد پیش نہیں کر سکتی" ... کیوں کہ واشنگٹن ایران پر امریکی پابندیوں کو بنیاد بنا کر تیل بردار جہاز کو تحویل میں رکھنے جانے کا خواہاں ہے۔

برطانوی شاہی میرینز نے چار جولائی کو جبل طارق میں ایرانی تیل بردار جہاز (گریس 1) کو قبضے میں لے لیا تھا۔ اس اقدام کی وجہ یہ شک تھا کہ یہ بحری جہاز شام کو تیل منتقل کر رہا ہے جب کہ یہ اقدام یورپی یونین کی پابندیوں کی خلاف ورزی ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند