تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ایرانی سُپر ٹینکر کے مدد گاروں پر بھرپور پابندیاں عائد کریں گے: امریکا
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 16 محرم 1441هـ - 16 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: جمعہ 21 ذوالحجہ 1440هـ - 23 اگست 2019م KSA 09:51 - GMT 06:51
ایرانی سُپر ٹینکر کے مدد گاروں پر بھرپور پابندیاں عائد کریں گے: امریکا
العربیہ ڈاٹ نیٹ، ایجنسیاں

امریکی وزارت خارجہ کے ایک ذمے دار نے باور کرایا ہے کہ امریکا نجی سیکٹر کو ایرانی تیل بردار جہاز "گریس 1" (جس کا نام اب ایڈریان ڈاریا 1 ہو چکا ہے) کی مدد کرنے سے روکنے کے لیے اعلان کردہ پابندیوں کو عائد کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ امریکا بحیرہ روم میں گامزن تیل بردار جہاز کو ضبط کرنا چاہتا ہے۔

مذکورہ ذمے دار نے رائیٹرز ایجنسی کو بتایا کہ شپمنٹ سیکٹر کو اس بات سے آگاہ کر دیا گیا ہے کہ امریکی پابندیوں کو پوری طاقت کے ساتھ لاگو کیا جائے گا۔

بحری جہازوں کی نقل و حرکت سے متعلق معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ "ایڈریان ڈاریا 1" یونان کی سمت رواں دواں تھا جب کہ یونان کے وزیراعظم کا یہ کہنا تھا کہ یہ جہاز ان کے ملک کی جانب نہیں آ رہا۔

امریکی ذمے دار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر خبردار کیا کہ کسی نے بھی اس تیل بردار جہاز کی براہ راست یا بالواسطہ مدد یا معاونت کی تو ان کا ملک اس کے خلاف متحرک ہو جائے گا۔

جبل طارق کے حکام کی تحویل میں تقریبا پانچ ہفتے رہنے کے بعد اس تیل بردار جہاز کو چھوڑ دیا گیا۔ جبل طارق کے حکام کو شبہ تھا کہ جہاز نے ایرانی تیل کی کھیپ شام منتقل کر کے دمشق پر عائد یورپی یونین کی پابندیوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

جہاز کو چھوڑے جانے کے فوری بعد امریکی وفاقی عدالت نے مختلف وجوہات کی بنا پر اسے ضبط کر لینے کا حکم جاری کیا مگر جبل طارق کے حکام نے اسے مسترد کر دیا۔

اس سے قبل 1.3 لاکھ ٹن خام تیل لے جانے والے جہاز نے اعلان کیا تھا کہ وہ یونان کے زیر انتظام جزیرے کی بندرگاہ کالاماتا کی جانب رواں دواں ہے۔ تاہم یونان کے وزیر خارجہ کے معاون ملٹیاڈس فارفیٹسیوٹس نے بدھ کے روز اعلان کیا تھا کہ یہ جہاز اپنے بڑے حجم کے سبب کسی یونانی بندرگاہ پر لنگر انداز نہیں ہو سکتا۔ یونانی ٹیلی وژن سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایتھنز حکومت کسی بھی صورت میں شام کو تیل کی منتقلی آسان بنانے کی خواہاں نہیں۔ معاون کے مطابق یونانی حکام کو امریکا کی جانب سے دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔

ادھر "میرین ٹریفک" ویب سائٹ کے مطابق یہ تیل بردار جہاز جمعرات کے روز الجزائر کے مشرقی شہر سکیکدہ کے نزدیک موجود تھا۔

متعدد یونانی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تیل بردار جہاز ممکنہ طور پر اپنی خام تیل کی شپمنٹ کو چھوٹے آئل ٹینکروں میں منتقل کر سکتا ہے۔ یہ عموما یونان، قبرص یا مالٹا کے قریب بین الاقوامی پانی میں ہوتا ہے۔

وال اسٹریٹ جرنل اخبار ے مطابق قبرص اس جہاز کی متبادل منزل ہو سکتا ہے۔ جہاز کو اس وقت ایندھن کی ضرورت ہے۔ تاہم اخبار نے اس میدان کے ماہرین کے حوالے سے بتایا ہے کہ قبرص ایرانی تیل بردار جہاز کو معاونت فراہم کرنے کے لیے مستعد نہیں ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند