تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
برطانیہ: قطر کے "الريان" بینک کے ساتھ منی لانڈرنگ کے حوالے سے تحقیقات
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 16 محرم 1441هـ - 16 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: جمعہ 21 ذوالحجہ 1440هـ - 23 اگست 2019م KSA 14:42 - GMT 11:42
برطانیہ: قطر کے "الريان" بینک کے ساتھ منی لانڈرنگ کے حوالے سے تحقیقات
دبئی ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ

برطانیہ میں مالیاتی حکام قطر کے "الریان بینک" کے ساتھ منی لانڈرنگ کے حوالے سے تحقیقات کر رہے ہیں۔ اس بات کا انکشاف برطانوی اخبار The Times نے جمعرات کے روز کیا۔

اخبار کے مطابق فنانشل کنڈکٹ اتھارٹی FCA کی تحقیقات کے نتائج سامنے آنے تک برطانیہ کے سب سے پرانے اور سب سے بڑے اسلامی بینک "الریان" کے آپریشن پر بعض قیود لگا دی گئی ہیں۔

اس سے قبل مذکورہ اخبار نے الریان بینک کے کئی مالی صارفین کے بعض مغربی بینکوں میں کھاتوں کے حوالے سے ایک رپورٹ شائع کی تھی جنہیں سیکورٹی قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کے سبب منجمد یا بلاک کر دیا گیا۔

اخبار کے مطابق الریان بینک میں کھاتوں کے مالکان کی فہرست میں ایک چیریٹی تنظیم بھی شامل ہے جس پر امریکا میں پابندی عائد ہے۔ واشنگٹن اس ادارے کو ایک دہشت گرد تنظیم شمار کرتا ہے۔ اس کے علاوہ ایک مسجد جس کا سیکریٹری ایک طویل عرصے تک حماس تنظیم کے سیاسی بیورو کا رکن رہا اور ایک شدت پسند مبلغ کے زیر قیادت سیٹلائٹ چینل کی مالیاتی اتھارٹی بھی فہرست میں شامل ہے۔

برطانوی فنانشل کنڈکٹ اتھارٹی نے گذشتہ برس تحقیقات کا آغاز کیا تھا اور اب اس کے نتائج کا انتظار ہے۔ اس دوران قطری بینک سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ متعدد فوری اقدامات کرے۔ ان اقدامات میں کسی بھی ایسے فریق کا مالی اکاؤنٹ نہ کھولنا جس کو فوجداری نوعیت کے مالیاتی جرائم کے سنگین خطرات کے ساتھ مربوط کیا گیا ہو اور سیاسی اہمیت کی حامل شخصیات اور ان کے عزیز و اقارب کی جانب سے کھاتے کھولنے کی درخواستوں کو مسترد کر دینا شامل ہے۔

الریان بینک کے 70% حصص قطر کے دوسرے سب سے بڑے بینک "مصرف الريان" کے پاس ہیں۔ بینک کے بقیہ 30% حصص قطر انویسٹمنٹ کی ملکیت ہیں جو قطر Sovereign Wealth فنڈ کے زیر انتظام کمپنی ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند