تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
پیرس: جواد ظریف کے دورے کے خلاف ایرانیوں کا مظاہرہ
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 16 محرم 1441هـ - 16 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: جمعہ 21 ذوالحجہ 1440هـ - 23 اگست 2019م KSA 16:17 - GMT 13:17
پیرس: جواد ظریف کے دورے کے خلاف ایرانیوں کا مظاہرہ
العربیہ ڈاٹ نیٹ - صالح حميد

پیرس میں سیکڑوں ایرانیوں نے ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کے فرانس کے دورے کے خلاف مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ تہران کے ساتھ تعلقات منقطع کر کے ایرانی نظام کے سقوط کا مطالبہ کرنے والے ایرانی عوامی احتجاج کو سپورٹ کیا جائے۔

سوشل میڈیا پر وائرل وڈیو کلپوں میں مظاہرین یہ نعرے لگاتے ہوئے نظر آ رہے ہیں "آمر خامنہ ای نہیں چاہیے"، "ولایت فقیہ نہیں چاہیے" اور "ظریف مجرم ہے، وہ ایرانی عوام کو کچلنے والے نظام کا نمائندہ ہے"۔

جواد ظریف اپنے دورے میں فرانس کے صدر عمانویل ماکروں کے ساتھ امریکی پابندیوں کا بوجھ کم کرنے کے سلسلے میں ایران کی مدد کی پیش کش کو زیر بحث لائیں گے۔ اس کے علاوہ جوہری معاہدے کی تمام شقوں کے لیے تہران کی فرماں برداری کے مقابل مشروط مالی معاونت کے لیے ایک میکانزم پیش کرنے پر بھی بات چیت ہو گی۔

دوسری جانب ایران میں انسانی حقوق کی سپورٹ کرنے والی کمیٹی (CSDHI) کا کہنا ہے کہ "جواد ظریف کے استقبال کے لیے سرخ قالین بچھانا انسانی حقوق، جمہوریت اور فرانس کی تمام اقدار کی توہین کے مترادف ہے"۔

کمیٹی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ظریف ایک ایسے نظام کی نمائندگی کرتے ہیں جو دنیا میں سب سے زیادہ لوگوں کو سزائے موت دیتا ہے اور وہ دہشت گردی کا سب سے بڑا سپورٹر ہے اور خطے میں بحرانات اور انارکی کا مرکزی ذریعہ ہے۔ بیان کے مطابق صرف اکیلے حسن روحانی کی مدت صدارت میں ایران میں 3700 لوگوں کو سزائے موت کے نام پر ہمیشہ کی نیند سلا دیا گیا۔ اس کے علاو ایرانی نظام نے 1988 میں 30 ہزار سیاسی قیدیوں کو موت کے گھاٹ اتارا تھا۔

بیان میں کمیٹی نے زور دے کر کہا کہ یہ ایرانی نظام آمر بشار الاسد کو تحفظ فراہم کر رہا ہے جس نے شامی عوام کے خلاف بدترین قتل و غارت مچائی ... جواد ظریف اور اس کی وزارت کا مشن یہ ہے کہ وہ ملائی نظام کے جرائم کا دفاع کرے اور ان کے جواز پیش کرے اور ساتھ ہی بیرون ملک دہشت گردی کی سازشوں کی رابطہ کاری انجام دیتے ہوئے انہیں آسان بنائے۔

کمیٹی نے اس جانب توجہ دلائی کہ صرف 2018 کے ایک سال میں 5 ایرانی سفارت کاروں کو یورپ سے نکالا گیا جن میں ایک سفیر بھی شامل ہے۔ اس اقدام کی وجہ مذکورہ سفارت کاروں کا ایرانی اپوزیشن کی شخصیات کے خلاف دہشت گردانہ سازشوں میں براہ راست کردار کا حامل ہونا تھا۔ کمیٹی نے اس امر کی بھی تصدیق کی کہ ایک سفارت کار سمیت 4 دیگر ایرانی جیل میں ہیں اور برسلز میں اپنی خلاف عدالتی کارروائی کے منتظر ہیں۔ اس لیے کہ یہ لوگ 2018 میں پیرس کے شمال میں ایرانی اپوزیشن کے ایک اجتماع کو بم حملے کا نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند