تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
امریکا: جیل میں خاتون کے ہاں بچے کی پیدائش، خاتوٓن کا عدم تعاون پرمقدمہ
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 7 ربیع الثانی 1441هـ - 5 دسمبر 2019م
آخری اشاعت: پیر 2 محرم 1441هـ - 2 ستمبر 2019م KSA 07:08 - GMT 04:08
امریکا: جیل میں خاتون کے ہاں بچے کی پیدائش، خاتوٓن کا عدم تعاون پرمقدمہ
دبئی ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ

امریکا کے علاقے ڈنفر میں جیل میں قید کی گئی ایک خاتون کے ہاں جیل کی کوٹھڑی میں انتہائی نا مساعد حالات میں بچے کی پیدائش نے جیل انتظامیہ اور دیگر حکام کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔

بچہ جنم دینے والی 27 سالہ ڈیانا سانشیز کو 14 جولائی 2019ء کو جیل میں ڈالا گیا جہاں آتے ہی اس نے حکام کو بتایا تھا کہ وہ امید سے ہے اور اس کے حمل کا آخری ماہ چل رہاہے مگر جیل انتظامیہ کی طرف سے اس کی بات پر کان نہیں دھرا گیا۔ اسے اس دوران کسی قسم کی طبی معاونت فراہم نہیں کی گئی۔ اکتیس جولائی کو اس نے صبح پانچ بجے کھانا لے کرآنے والے ایک سیکیورٹی اہلکار کو بتایا کہ وہ زچگی کی تکلیف سے دوچار ہے۔ اس لیے اس کی فوری مدد کی جائے مگر اس وقت بھی اس کی کوئی مدد نہیں کی گئی۔ وہ چھ گھنٹے ٹھنڈی کوٹھڑی میں پڑی تکلیف سے تڑپتی رہی۔ آخر کار اس نے جیل ہی میں بچے جو جنم دیا۔ بچہ پیدا ہونے کے بعد ایک نرس ٹہلتی ٹہلتی اس کے پاس آئی۔ اس نے خاتون کا بہتا خون روکنے کی برائے نام کوشش کی اور انتہائی لاپرواہی سے بہت دیر سے ایک ایمبولینس بلا کر خاتون اور اس کے بچے کو اسپتال منتقل کیا گیا۔

جیل میں زچگی کے دوران عدم تعاون پرڈیانا سانشیز جیل کے پورے عملےاور ڈانفر انتظامیہ کے خلاف کیس کیا ہے۔ اس نے اپنے دعوے میں موقف اختیار کیا ہےکہ جیل میں آتے ہی اس نے پولیس حکام اور جیل انتظامیہ کو اپنی صحت کے بارے میں بتا دیا تھا مگر اسے نہ صرف اس دوران بلکہ بچے کی پیدائش کے وقت بھی کسی قسم کی معاونت اور مدد فراہم نہیں کی گئی۔

دوسری جانب پولیس نے بھی واقعے کی تحقیقات شروع کی ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی اہلکاروں اور جیل عملے کی طرف سے ڈیانا کی حفاظت کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے تھے۔ پولیس کا کہنا ہے جب خاتون قیدی کو بچے کی پیدائش کی تکلیف شروع ہوئی تو فوری طورپر ایمبولینس بلا کر اسے اسپتال پہنچایا گیا تھا مگر خاتون کی طرف سے جیل کے کیمروں کا ریکارڈ پیش کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند