تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
جرمن چانسلر سوڈانی مرد اور خواتین کی دلیری سے بے پناہ متاثر
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 29 جمادی الثانی 1441هـ - 24 فروری 2020م
آخری اشاعت: بدھ 4 محرم 1441هـ - 4 ستمبر 2019م KSA 10:30 - GMT 07:30
جرمن چانسلر سوڈانی مرد اور خواتین کی دلیری سے بے پناہ متاثر
العربیہ ڈاٹ نیٹ - عبدالعزيز ابراهيم محمد

جرمنی کی خاتون چانسلر انجیلا میرکل کا کہنا ہے کہ حقوق کے پُر امن دفاع اور جمہوریت کے وژن کے حوالے سے سوڈان کے مرد اور خواتین کی دلیری انہیں بے حد پسند آئی ہے۔

میرکل نے یہ بات سوڈان کے وزیراعظم عبداللہ حمدوک کو وزارت عظمی کا منصب سنبھالنے کے بعد بھیجے گئے ایک خط میں کہی۔

تہنیت پر مبنی خط میں میرکل نے حمدوک کو لکھا کہ "سوڈان میں اندرونی امن اور ملک میں ترقی کو یقینی بنانے کے لیے کام ہوا تو جرمنی ایک قابل اعتماد شراکت دار کے طور پر آپ کے ساتھ کھڑا ہو گا"۔

میرکل کا یہ پیغا مایسے وقت میں سامنے آیا جب جرمنی کے وزیر خارجہ ہائیکو ماس منگل کی صبح سوڈانی دارالحکومت خرطوم پہنچے ہیں۔

ماس کا یہ دورہ 2011 کے بعد کسی بھی یورپی اور جرمن ذمے دار کا سوڈان کا پہلا دورہ ہے۔

جرمن وزیر خارجہ کے دورے سے ایسا لگتا ہے کہ جرمنی سوڈان کے ساتھ قریبی اور مضبوط تعلقات قائم کرنے کا خواہاں ہے۔ برلن سوڈانی حکومت اور دارفور میں مسلح تحریکوں کے درمیان متعدد خفیہ اور اعلانیہ اجلاسوں کی میزبانی کر چکا ہے۔

جرمنی گذشتہ صدی میں 1960 کی دہائی کے اوائل میں سوڈان کے سب سے بڑے اقتصادی شراکت داروں میں سے تھا۔ اس نے شکر کی صنعت، پیشہ وارانہ تربیت اور سوڈانی فوج کے لیے عسکری ساز وسامان پیش کرنے کی بنیاد ڈالی۔

جرمنی سوڈان سے عربی گوند، تیل کے بیج، تِل اور طبی شعبے میں کام آنے والے پودے درآمد کرتا ہے۔ جرمنی کی دوا ساز صنعت سوڈان سے درآمد شدہ خوشبودار پودوں اور عربی گوند پر انحصار کرتی ہے۔

کچھ عرصہ پہلے جرمنی نے اعلان کیا تھا کہ وہ سوڈان کے قرضوں کے سلسلے میں "مثبت" ویژن رکھتا ہے۔ برلن نے براعظم افریقہ کے ساتھ مسلسل تعاون کی مہم کا بھی آغاز کیا ہے۔

افریقی ترقیاتی بینک کے مطابق براعظم کے 37 کروڑ افراد جرمن مصنوعات کے لیے ایک تابناک منڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔

سال 2013 میں جرمنی اور افریقا کے درمیان تجارتی تبادلے کا حجم تقریبا 26 ارب یورو تھا۔ اس میں توانائی اور زرعی مصنوعات غالب رہیں۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند