تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
کابل: امریکی سفارت خانہ کے نزدیک طالبان کا خودکش کار بم حملہ ، 10افراد ہلاک
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 19 صفر 1441هـ - 19 اکتوبر 2019م
آخری اشاعت: جمعرات 5 محرم 1441هـ - 5 ستمبر 2019م KSA 19:55 - GMT 16:55
کابل: امریکی سفارت خانہ کے نزدیک طالبان کا خودکش کار بم حملہ ، 10افراد ہلاک
کابل میں بم دھماکے میں امریکی اور رومانی فوجی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔
کابل۔ ایجنسیاں

افغان طالبان نے دارالحکومت کابل میں جمعرات کو مصروف سفارتی علاقے میں خودکش کار بم حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں ایک امریکی فوجی سمیت کم سے کم دس افراد ہلاک ہوگئے ہیں ۔ اسی علاقے میں امریکا کا سفارت خانہ واقع ہے اور اس میں طالبان کا اس ہفتے کے دوران میں یہ دوسرا بم حملہ ہے۔

افغان وزارت داخلہ کے ترجمان نصرت رحیمی نے بتایا ہے کہ اس بم دھماکے میں بیالیس افراد زخمی ہوئے ہیں اور بارہ گاڑیاں تباہ ہوگئی ہیں۔ زخمیوں کو نزدیک واقع اسپتالوں میں منتقل کردیا گیا ہے۔

افغانستان میں معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم ( نیٹو) نے اس بم دھماکے میں اپنے مشن میں شامل ایک مریکی اور ایک رومانی فوجی کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

طالبان نے ایک بیان میں اس بم حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے اور انھوں نے کہا کہ حملہ آور نے کابل کے قلعہ نما علاقے شش درک میں داخل ہونے کی کوشش میں ’’غیرملکیوں‘‘ کی گاڑیوں کو نشانہ بنایا ہے۔اس علاقے میں افغان نیشنل سکیورٹی کے دفاتر ہیں۔

اس کے نزدیک ہی نیٹو کے اسپورٹ مشن کے دفاتر ہیں۔ کار بم حملے کے وقت وہاں برطانوی فوجی موجود تھے اور وہ نیٹو کی ایک گاڑی سے باقیات کو نکال رہے تھے۔ نیٹو کے مشن یا کابل میں برطانوی ہائی کمیشن نے اس حملے کے بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

سوشل میڈیا پر شئیر کی گئی فوٹیج میں خودکش بمبار کو اپنی گاڑی کو چیک پوائنٹ سے ٹکراتے ہوئے دیکھا گیا ہے اور اس کے بعد زور دار دھماکا ہوجاتا ہے۔ اس سے چند سیکنڈ قبل ایک راہگیر وہاں سے بھاگنے کی کوشش کررہا ہے۔

افغان صدر کے ترجمان صدق صدیقی نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے ’’ہم سب نے سکیورٹی کیمرے سے دیکھا کہ کس کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔‘‘ اس بم دھماکے میں بھی زیادہ تر عام شہری نشانہ بنے ہیں۔البتہ امریکی سفیر جان باس نے اس حملے کی مذمت کی ہے اور اپنے بیان میں کہا ہے کہ مرنے والوں میں سکیورٹی فورسز کے اہلکار بھی شامل ہیں۔

طالبان نے گذشتہ سوموار کو بھی دارالحکومت کابل کے مشرقی حصے میں غیر ملکی سفارت خانوں اور سرکاری دفاتر کے نزدیک واقع علاقے میں ایک تباہ کن بم دھماکے کی ذمے داری قبول کی تھی۔ اس بم دھماکے میں 16 افراد ہلاک اور ایک سو سے زیادہ زخمی ہو گئے تھے۔اس علاقے میں پہلے بھی متعدد خودکش بم دھماکے ہوچکے ہیں۔

ان بم دھماکوں کے بعد افغان حکومت نے طالبان اور امریکا کے درمیان جاری امن مذاکرات اور ان کے نتیجے میں طے پانے والے مجوزہ سمجھوتے کے ب بارے میں شکوک کا اظہار کیا ہے۔مجوزہ امن معاہدے کو اگر حتمی شکل دے دی جاتی ہے تو اس کے تحت افغانستان میں موجود ہزاروں امریکی فوجیوں کا انخلا ہوجائے گا۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند