تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
افغان صدر اشرف غنی نے طے شدہ دورۂ امریکا ملتوی کر دیا، وجہ کیا بنی؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

منگل 22 صفر 1441هـ - 22 اکتوبر 2019م
آخری اشاعت: ہفتہ 7 محرم 1441هـ - 7 ستمبر 2019م KSA 08:32 - GMT 05:32
افغان صدر اشرف غنی نے طے شدہ دورۂ امریکا ملتوی کر دیا، وجہ کیا بنی؟
افغان صدر اشرف غنی: فائل فوٹو
ایجنسیاں

افغانستان کے صدر اشرف غنی نے اپنا امریکا کا دورۂ ملتوی کر دیا ہے۔ انہوں نے آئندہ ہفتے طالبان اور امریکا کے درمیان متوقع امن معاہدے پر گفتگو کے لیے واشنگٹن جانا تھا۔

خبر رساں ادارے ’اے پی‘ کے مطابق افغان صدر کا دورۂ امریکا ملتوی ہونے کی اطلاع ایک اعلیٰ عہدے دار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر دی ہے کیوں کہ ان کے پاس صحافیوں سے گفتگو کرنے کا اختیار نہیں ہے۔

یہ پیش رفت جمعے کو ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکا کے خصوصی ایلچی برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد غیر متوقع طور پر طالبان سے دوبارہ گفتگو کے لیے اچانک قطر واپس آئے ہیں۔

زلمے خلیل زاد چند روز قبل ہی طالبان کے ساتھ مذاکرات کا نواں دور ختم کر کے امریکا روانہ ہوئے تھے۔

خبر رساں ایجنسی کے مطابق افغانستان کے صدر کو امریکا اور طالبان کے درمیان ہونے والے مذاکرات سے دور رکھا گیا ہے۔ رواں ہفتے خلیل زاد کی کابل آمد کے موقع پر اشرف غنی کو معاہدہ دکھایا گیا تھا لیکن اسے رکھنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

اشرف غنی طالبان اور امریکا کے متوقع معاہدے پر تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔ انہوں نے رواں ہفتے بھی امن معاہدے پر اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے سابق امریکی سفارت کاروں کے اس بیان کا حوالہ دیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ امریکی فوجیں واپس بلانے سے افغانستان مکمل طور پر خانہ جنگی کا شکار ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ طالبان افغانستان کی حکومت سے بات چیت کرنے سے انکار کر چکے ہیں اور انہیں امریکا کی کٹھ پتلیاں قرار دیتے آئے ہیں۔

زلمے خلیل زاد پیر کو اپنے ایک بیان میں کہہ چکے ہیں کہ امریکی افواج کے انخلا کے لیے ہونے والے امن معاہدے کو صرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی منظوری کی ضرورت ہے۔

خلیل زاد کے پیر کو اس اعلان کے بعد سے طالبان کابل میں دو بڑے حملے کر چکے ہیں جن میں ایک امریکی اہلکار بھی ہلاک ہوا ہے۔

حملوں کے بعد افغان حکومت اور سابق امریکی سفارت کار خلیل زاد پر دباؤ ڈال کر انہیں اس معاہدے سے متعلق اپنے خدشات سے آگاہ کر رہے ہیں۔

امریکا کے ایوان کی خارجہ امور کمیٹی کے سربراہ ایلیٹ اینجل بھی مطالبہ کر چکے ہیں کہ خلیل زاد مذاکرات پر پہلے کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر انہیں اعتماد میں لیں۔

دوسری جانب حکام کے مطابق جمعے کو طالبان نے افغانستان کے صوبے فراہ میں ایک اور حملہ کیا ہے جس میں دو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

فراہ کے صوبائی گورنر محمد شعیب نے کہا ہے کہ شدّت پسندوں کے خلاف فضائی حملے اور جھڑپیں جاری ہیں۔ جن میں مقامی اسپتالوں کے ذرائع کے مطابق مزید 15 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند