تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
طالبان کو قطر سے افغانوں کو قتل کرنے کے احکام مل رہے ہیں: ترجمان صدرغنی
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعہ 17 ربیع الاول 1441هـ - 15 نومبر 2019م
آخری اشاعت: اتوار 8 محرم 1441هـ - 8 ستمبر 2019م KSA 22:09 - GMT 19:09
طالبان کو قطر سے افغانوں کو قتل کرنے کے احکام مل رہے ہیں: ترجمان صدرغنی
افغان حکومت کے ترجمان صدق صدیقی
العربیہ ڈاٹ نیٹ

افغان صدر اشرف غنی کے ترجمان صدق صدیقی نے کہا ہے کہ عوام طالبان کے ساتھ ایسے نامکمل امن معاہدے کو قبول نہیں کریں گے، جس کے نتیجے میں ان کی ہلاکتیں ہی ہوں۔

صدق صدیقی نے اتوارکوکابل میں ایک نیوزکانفرنس میں کہا کہ ’’قطر میں امن بات چیت کے لیے مقیم طالبان کے لیڈر تو دوحہ میں ہنی مون منا رہے ہیں اور طالبان لیڈروں کو قطر ہی سے افغانوں کو قتل کرنے کے احکامات موصول ہورہے ہیں۔‘‘

انھوں نے قطر میں جاری مذاکراتی عمل کو نامکمل قرار دیا ہے اورافغان حکومت نے امریکا کے ساتھ دوحہ میں ’ڈھونگ‘ عمل کے بارے میں اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

صدرغنی کے ترجمان نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا افغانستان کے طالبان لیڈروں کے ساتھ امن مذاکرات منسوخ کرنے کا فیصلہ اس امر کا ثبوت ہے کہ حکومت کی تشویش کو تسلیم کرلیا گیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے کابل میں حالیہ بم دھماکے کے بعد طالبان سے مذاکرات منسوخ کردیےہیں۔اس بم دھماکے میں ایک امریکی فوجی سمیت گیارہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ ’’امن مذاکرات نے طالبان کو سیاسی زندگی کو قبول کرنے کا ایک موقع فراہم کیا تھا۔ہم (افغان حکومت) ان مذاکرات کے نتیجے میں ملک میں جنگ بندی کی توقع کررہے تھے اور طالبان کے ساتھ براہ راست مذاکرات کرنا چاہتے تھے لیکن ہم نے ان ( طالبان) کی طرف سے کوئی حقیقی کوشش نہیں دیکھی ہے۔‘‘

صدر اشرف غنی کے دفتر نے الگ سے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ امریکا اور دوسرے اتحادیوں کے ساتھ مل کر افغانستان میں’آبرومندانہ اور پائیدار امن‘ کے قیام کے لیے کام کرنا چاہتے ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ملک میں پائیدارامن کے قیام کے لیے آیندہ ہونے والے انتخابات کے نتیجے میں ایک مضبوط ، قانونی اور جائز حکومت کی ضرورت ہے جو جاری امن عمل میں مزید پیش رفت کرسکے۔

افغانستان میں اٹھائیس ستمبر کو صدارتی انتخابات منعقد ہورہے ہیں۔اشرف غنی دوبارہ صدارتی امیدوار ہیں اور وہ دوسری مدت کے لیے منتخب ہونا چاہتے ہیں لیکن طالبان نے ان صدارتی انتخابات کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا تھا اور انھوں نے امریکا کے ساتھ امن معاہدے پر دست خط کے لیے بھی یہی شرط عاید کی تھی۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند