تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
طالبان کے ساتھ مذاکرات ’مردہ‘ ہو چکے ہیں: صدر ٹرمپ
’’امن مذاکرات کی منسوخی سے امریکا کو پہلے سے بھی زیادہ سخت نتائج بھگتنے پڑیں گے‘‘
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعہ 18 صفر 1441هـ - 18 اکتوبر 2019م
آخری اشاعت: منگل 10 محرم 1441هـ - 10 ستمبر 2019م KSA 11:00 - GMT 08:00
طالبان کے ساتھ مذاکرات ’مردہ‘ ہو چکے ہیں: صدر ٹرمپ
’’امن مذاکرات کی منسوخی سے امریکا کو پہلے سے بھی زیادہ سخت نتائج بھگتنے پڑیں گے‘‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
واشنگٹن ۔ ایجنسیاں

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات منسوخ کرنے کا فیصلہ ان کا ذاتی فیصلہ تھا اور اس سلسلے میں انہوں نے کسی سے مشاورت نہیں کی ہے۔

صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات کی تردید کی کہ انہوں نے نائب صدر مائیک پینس اور دیگر معاونین کے مشوروں کو نظر انداز کرتے ہوئے کیمپ ڈیوڈ میں طالبان کے ساتھ امن بات چیت منعقد کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ طالبان کو کیمپ ڈیوڈ آنے کی دعوت دینا مکمل طور پر اُن کا اپنا فیصلہ تھا اور اسے منسوخ کرنا بھی انہی کا فیصلہ ہے۔

یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے اتوار کو طالبان اور افغان صدر کے ساتھ کیمپ ڈیوڈ میں الگ الگ ملاقات کرنا تھی جسے انہوں نے منسوخ کر دیا تھا۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ امن بات چیت کے دوران طالبان نے حملے جاری رکھے اور جمعرات کو ہونے والے حملے میں ایک امریکی فوجی بھی ہلاک ہوا۔ لہذا بات چیت اور حملے ایک ساتھ جاری نہیں رہ سکتے ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات ’مردہ‘ ہو چکے ہیں۔

صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ امریکا ایک عرصے سے افغانستان میں ایک تھانیدار کا کردار ادا کرتا رہا ہے اور اس سلسلے میں امریکا نے وہاں زبردست کام کیا ہے۔ اُن کے بقول ہم افغانستان سے نکلنا چاہتے ہیں۔ تاہم یہ کام کسی مناسب وقت پر کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ امریکا اور طالبان کے مذاکرات کاروں کے درمیان بات چیت کا سلسلہ لگ بھگ ایک سال سے جاری تھا اور امریکا کے اعلیٰ ترین مذاکرات کار زلمے خلیل زاد نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ فریقین کے درمیان سمجھوتے کا مسودہ تیار کر لیا گیا ہے۔

اگر صدر ٹرمپ اس مسودے کی منظوری دے دیتے ہیں تو امریکا افغانستان کے پانچ فوجی اڈوں سے پانچ ہزار فوجیوں کو اگلے 135 دن میں واپس بلا لے گا۔

مذاکرات منسوخی پر طالبان کا ردعمل

درایں اثنا افغان طالبان نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے امن مذاکرات کی منسوخی سے امریکا کو پہلے سے بھی زیادہ سخت نتائج بھگتنے پڑیں گے۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ اس فیصلے سے امریکا کو مزید جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑے گا۔ افغان طالبان کے ترجمان نے مزید کہا کہ انہیں یقین ہے کہ امریکا پھر مذاکرات کے لیے آئے گا۔

طالبان نے امارات اسلامیہ افغانستان کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا کہ کل تک امریکا کی مذاکراتی ٹیم بات چیت میں پیش رفت سے خوش تھی اور فریقین معاہدے کے اعلان اور دستخط کی تیاریوں میں مصروف تھے۔

انہوں نے کہا کہ اٹھارہ برس کی لڑائی سے امریکیوں پر واضح ہو جانا چاہیے کہ جب تک افغانستان سے غیرملکی فوجیں نہیں نکلتیں، تب تک وہاں امن قائم نہیں ہو گا۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند