تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ترکی: سابق وزیر اعظم دائود اولو بھی ایردوآن کی جماعت سے علاحدہ
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

منگل 17 محرم 1441هـ - 17 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: جمعہ 13 محرم 1441هـ - 13 ستمبر 2019م KSA 17:02 - GMT 14:02
ترکی: سابق وزیر اعظم دائود اولو بھی ایردوآن کی جماعت سے علاحدہ
ترکی کے سابق وزیراعظم احمد داؤد اوغلو
العربیہ ڈاٹ نیٹ

ترک صدر رجب طیب ایردوآن کی جماعت جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی [آق] کو ایک اور ہنگامہ خیز صورتحال کا سامنا ہے کہ اس کی مرکزی قیادت میں سے ایک اور شخصیت نے اس سیاسی تحریک سے علاحدگی اختیار کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ترکی کے سابق وزیر اعظم احمد دائود اولو حالیہ دنوں کے دوران ایردوآن کی جماعت کو چھوڑنے والے دوسری مرکزی شخصیت ہیں۔ انہوں نے اپنی ایک نئی جماعت کی جلد تشکیل کا اعلان کیا ہے۔

احمد دائود اولو نے جمعہ کو اپنے خلاف پارٹی میں ہونے والی انظباطی کارروائی شروع ہونے کے کچھ ہی دن بعد اپنے عہدے اور پارٹی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ دائود اوغلو کے علاوہ تین دیگر سابق ارکان پارلیمان کو بھی ایردوآن کی آق پارٹی کی جانب سے ڈسپلن کی خلاف ورزی پر پارٹی سے نکالے جانے کی تیاریاں کی جارہی تھیں۔

احمد دائود اولو نے 2014 اور 2016 کے دوران طیب ایردوآن کی صدارت تلے بطور وزیر اعظم فرائض انجام دئیے ہیں۔

انہیں ایردوآن کی داخلی پالیسیوں بالخصوص آزادی اظہار رائے پر لگائی جانے والی پابندیوں پر اعتراضات تھے۔

دائود اوغلو سے قبل آق پارٹی کو چھوڑنے والوں میں علی باباکان شامل ہیں جو کہ نائب وزیر اعظم اور وزیر خزانہ کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند