تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ایران نے 'ادریان داریا 1' کے حوالے سے بد عہدی کی: جبرالٹر
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 19 صفر 1441هـ - 19 اکتوبر 2019م
آخری اشاعت: ہفتہ 14 محرم 1441هـ - 14 ستمبر 2019م KSA 07:46 - GMT 04:46
ایران نے 'ادریان داریا 1' کے حوالے سے بد عہدی کی: جبرالٹر
لندن ۔ ایجنسیاں

جبرالٹر کے جہاز رانی کے وزیر نے کہا کہ ان کی حکومت نے خطے کے وسیع تر مفاد میں ایرانی آئل ٹینکر 'ادریان داریا 1' چھوڑ دیا تھا مگر تہران نے اپنے وعدے پورے نہیں کیے۔ ایران نے یقین دہانی کرائی تھی کہ تیل بردار جہاز پر لادا گیا خام تیل شام کو فروخت نہیں کرے گا مگراس نے اس کے برعکس دمشق کو تیل فروخت کرکے بد عہدی کی ہے۔

خیال رہے کہ 4 جولائی کو برطانوی اسپیشل فورسز نے 'گریس 1' نامی ٹینکر کو اس شبہ میں پکڑا کہ وہ یورپی یونین کی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شام جا رہا تھا۔

جبرالٹر نے ایران سے تحریری ضمانت حاصل کرنے کے بعد 15 اگست کو یہ ٹینکر چھوڑ دیا تھا۔ ایران نے جبرالٹر کو یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ 'ادریان داریا 1' پر لادا گیا قریبا 20 لاکھ بیرل تیل اپنے اتحادی شام کو فروخت نہیں کرے گا۔

جبرالٹر میں بندرگاہوں اور نیویگیشن کے انچارج وزیر گلبرٹ لیتھوڈی نے کہا، "ہم نے ٹینکر کو خیر سگالی اور ایک خود مختار ریاست کے وعدوں کی بنیاد پر چھوڑا ہے۔"

ان کا کہنا تھا کہ "ہمارے پاس جو اطلاعات ہیں وہ یہ ہیں کہ ایران کی طرف سے جبرالٹر حکومت کو اس یقین دہانی کے باوجود کہ جہاز شام میں اپنا تیل نہیں اتارے گا۔ ایسا نہیں کیا گیا بلکہ تیل واقعتا شام میں اتارا گیا۔

لندن میں ایرانی سفیر نے بدھ کے روز برطانوی سکریٹری خارجہ ڈومینک ریپ کی طرف سے طلب کیے جانے کے بعد کہا ہے کہ جہاز "ادریان داریا 1" کا تیل سمندر میں ایک نجی کمپنی کو فروخت کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپی یونین کی طرف سے شام پر عاید کی جانے والی پابندیوں کا اطلاق ایران پر نہیں ہوتا۔

جبرالٹر کے وزیر لیتھوڈی نے کہا کہ وہ یہ یقینی طور پر نہیں کہہ سکتے ہیں کہ آیا یہ جہازکو سمندر کے اندر خالی کیا گیا تھا یا نہیں۔

جمعرات کے روز امریکی محکمہ خارجہ نے کہا تھا کہ واشنگٹن کے پاس شواہد موجود ہیں کہ ایرانی ٹینکر نے وہ تیل شامی حکومت کو فروخت کیا ہے۔

بحری جہازوں کی نقل وحرکت پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ 'ریوینیٹو' کے مطابق ایرانی تیل بردار جہازکا آخری ریکارڈ شدہ مقام 2 ستمبر کو شام کے ساحل سے کچھ فاصلے پر بتایا گیا۔

جبرالٹر نے اگست میں ٹینکر کو ریزرویشن دینے کے لیے امریکی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس کی تعمیل نہیں کرسکتا ہے کیونکہ اس نے یورپی یونین کے قوانین کی تعمیل کی ہے۔

جہاز کو ابتداء سے قبضہ کرنے کے فیصلے کے بارے میں لیتھوڈی نے کہا کہ جبرالٹر نے جولائی میں جہاز کو روکنے کا فیصلہ کیا تھا۔ "یقینی طور پر امریکا ، برطانیہ یا کسی اور ملک کا کوئی دبائو نہیں تھا۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند