تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
تیل کے محفوظ ذخائر کو استعمال میں لانے کے لیے تیار ہیں: امریکا
سعودی تیل تنصیبات پر حملوں کے بعد ہنگامی پلان زیرغور ہے: وزیر توانائی
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 19 صفر 1441هـ - 19 اکتوبر 2019م
آخری اشاعت: اتوار 15 محرم 1441هـ - 15 ستمبر 2019م KSA 18:14 - GMT 15:14
تیل کے محفوظ ذخائر کو استعمال میں لانے کے لیے تیار ہیں: امریکا
سعودی تیل تنصیبات پر حملوں کے بعد ہنگامی پلان زیرغور ہے: وزیر توانائی
امریکی وزیر توانائی ریک پیری
العربیہ ڈاٹ نیٹ

سعودی عرب کی نیشنل آئل کمپنی 'آرامکو' تیل کی دو تنصیبات پر ڈرون حملوں کے بعد امریکی محکمہ توانائی کے حکام نے کہا ہے کہ اگر تیل کی منڈیوں میں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا تو امریکا اپنے تیل کے محفوظ ذخائر کو استعمال میں لانے کے لیے تیار ہے۔

امریکی وزیر توانائی ریک پیری نے وزارت کے عہدیداروں کو ہدایت کی ہے کہ اگر ضرورت ہو تو عالمی توانائی ایجنسی کے ساتھ رابطے میں رہیں اور کسی بھی ہنگامی ایکشن پلان پرعمل درآمد کے لیے تمام ممکنہ وسائل کو کو بروئے کار لائیں۔

امریکی صدر کا سعودی ولی عہد سے رابطہ

ہفتے کی شام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبد العزیزسے ٹیلیفون پر رابطہ کیا۔ دونوں رہ نمائوں کے درمیان ہونے والی بات چیت میں ہفتے کی صبح 'ارامکو' کی دو تیل تنصیبات پر ہونے والے حملوں اور اس کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

امریکی صدر نے کہا کہ ان کا ملک سعودی عرب کی سلامتی اور استحکام میں معاونت کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی تیل کی تنصیبات پرحملوں کے امریکی معیشت کے ساتھ ساتھ عالمی معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

امریکی تیل کے ذخائر

بین الاقوامی توانائی ایجنسی جو تیل پیدا کرنے والے 30 ممالک پرمشتمل ہےنے تیل کی فراہمی، توانائی کی پالیسی کے دفاع اور عالمی منڈی میں ہرقسم کی بے چینی سے نمٹنے کے لیے کوشاں ہے۔

امریکا کے تیل کے محفوظ ذخائر 60 کروڑ 30 لاکھ بیرل ہیں۔

ہفتے کو یمن میں حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے بعقیق خوریص کی دو آئل فیلڈ پر ڈرون طیاروں سے حملہ کردیا تھا جس کے نتیجے میں دونوں تیل تنصیبات پر آگ بھڑک اٹھی تھی۔اس حملے کے نتیجے میں تیل کی سپلائی عارضی طورپر معطل ہوئی ہے۔

سعودی حکام نے بتایا کہ متاثرہ مقامات پرتیل کی پیداوار عارضی طور پر معطل کردی گئی تھی۔

عارضی طور پر پیداوار معطل

سعودی عرب کے توانائی کے وزیرشہزادہ عبدالعزیز بن سلمان بن عبدالعزیز نے کہا ہے کہ ہفتے کو علی الصباح دو مقامات پر تیل کی تنصیبات پر دہشت گردانہ حملوں کے نتیجے میں وہاں پر تیل کی پیداوار جزوی طورپر متاثر ہوئی تھی تاہم اسے بحال کردیا گیا ہے۔

وزیر توانائی کے شہزادہ عبد العزیز بن سلمان نے بتایا کہ ہفتے کے روز مقامی وقت کے مطابق صبح 3:30اور 3:42 پرخریص اور بعقیق کے مقامات پر ارمکو کمپی کی تیل دو آئل فیلڈ پر دہشت گردوں کے حملوں کے نتیجے میں متعدد دھماکے ہوئے اور آگ بھڑک ہوٹھی تھی تاہم حکام نے جلد ہی آگ پر قابو پالیا۔

انہوں نے بتایا کہ اس دہشت گردانہ واردات کے نتیجے میں بعقیق اور خریص تیل تنصیبات میں تیل پیداوارعارضی طورپر متاثر ہوئی۔ ابتدائی تخمینوں کے مطابق ان دھماکوں کے نتیجے میں خام تیل کی فراہمی کی 50 فی صد مقدار معطل ہوگئی جس کا تخمینہ لگ بھگ 5.7 ملین بیرل تھا۔ کمپنی نے اپنے گاہکوں کو تیل کی کمی نہیں ہونے دی اور انہیں ذخیرہ شدہ تیل سے کمی پوری کی گئی۔

وزیر نے وضاحت کی کہ ان دھماکوں کے نتیجے میں گیس کی پیداوار بھی متاثر ہوئی۔ اس کا تخمینہ دوارب مکعب فٹ روزانہ ہوتا ہے۔ گیس فیلڈ سات لاکھ بیرل مائع قدرتی گیس مائع پیدا ہوتی ہے۔ حملوں کے باعث ایتھن اور مائع قدرتی گیس میں 50 فی صد کمی آئی۔

سعودی وزیر نے بتایا کہ اس حملے سے ایندھن سے بجلی اور پانی کی فراہمی یا ہائیڈرو کاربنز کی مقامی مارکیٹ کی فراہمی پر کوئی اثر نہیں پڑا ہے اور نہ ہی کوئی جانی نقصان ہوا ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند