تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
امریکا نے ارامکو کے پلانٹس پر حملوں کی سیٹلائٹ تصاویر جاری کر دیں
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 16 صفر 1441هـ - 16 اکتوبر 2019م
آخری اشاعت: پیر 16 محرم 1441هـ - 16 ستمبر 2019م KSA 09:42 - GMT 06:42
امریکا نے ارامکو کے پلانٹس پر حملوں کی سیٹلائٹ تصاویر جاری کر دیں
دبئی – العربیہ ڈاٹ نیٹ

واشنگٹن نے پیر کے روز مصنوعی سیارے سے حاصل کی گئی فضائی تصاویر جاری کی ہیں۔ ان کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ یہ سعودی عرب میں بقیق اور خریص ہجرہ میں ڈرون طیاروں کے ذریعے نشانہ بننے والی تیل کی تنصیبات سے نکلنے والے دھوئیں کی ہیں۔

امریکی ذمے داران کا کہنا ہے کہ شواہد اس بات کا پتہ دے رہے ہیں کہ یہ حملے کروز میزائلوں کے ذریعے کیے گئے اور ان کے لیے عراق یا ایران کی سرزمین استعمال ہوئی۔ ذمے داران نے مزید بتایا کہ معلومات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ حملہ یمن سے ڈرون طیاروں کے ذریعے نہیں کیا گیا۔ جاری تصاویر سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ حملے کے دوران ارامکو کے دو پلانٹس کے اندر 17 ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔

یمن میں دہشت گرد حوثی جماعت نے بقیق اور خریص ہجرہ میں ارامکو کی مذکورہ دونوں تنصیبات پر حملے کی ذمے داری قبول کی ہے۔

مملکت کے مشرقی حصے میں ارامکو کمپنی کے دو پلانٹس کو نشانہ بنائے جانے پر عالمی برادری کی جانب سے ردود عمل آنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس حملے کے سبب سعودی عرب کی تیل کی نصف برآمدات رک گئیں جو عالمی معیشت کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔

امریکا کا جوابی کارروائی کا عندیہ

اس سلسلے میں نمایاں ترین رد عمل وائٹ ہاؤس کی جانب سے سامنے آیا ہے جس میں یہ عندیہ دیا گیا ہے کہ سعودی عرب پر کسی بھی حملے کی صورت میں ایران کے خلاف مداخلت عمل میں آ سکتی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انہوں نے سعودی عرب میں تیل کی دو تنصیبات پر حملے کے سبب ضرورت پڑنے پر تیل کے محفوظ ذخائر استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

اتوار کی شام اپنی ایک ٹویٹ میں ٹرمپ نے مزید کہا کہ "سعودی عرب میں حملے کے سبب تیل کی قیمتوں پر اثر پڑ سکتا ہے ... ضرورت پڑنے پر محفوظ کیا ہوا تیل استعمال کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے اور متعین کردہ مقدار منڈی میں ترسیلات کو اچھی طرح برقرار رکھنے کے لیے کافی ہو گی"۔

ہفتے کی شام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبد العزیزسے ٹیلیفون پر رابطہ کیا۔ دونوں شخصیات کے درمیان ہونے والی بات چیت میں ہفتے کی صبح 'ارامکو' کی دو تیل تنصیبات پر ہونے والے حملوں اور اس کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

امریکی صدر نے باور کرایا کہ ان کا ملک سعودی عرب کی سلامتی اور استحکام میں معاونت کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی تیل کی تنصیبات پرحملوں کے امریکی معیشت کے ساتھ ساتھ عالمی معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق اس موقع پر سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے امریکی صدر کی پیش کش کے جواب میں کہا کہ "مملکت اس طرح کی دہشت گردانہ جارحیت سے نمٹنے کی صلاحیت اور عزم رکھتی ہے"۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند