تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
امریکی وزیر دفاع کا خلیج میں تیل کے تحفظ کے لیے نئی عسکری کُمک کا اعلان
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 19 صفر 1441هـ - 19 اکتوبر 2019م
آخری اشاعت: ہفتہ 21 محرم 1441هـ - 21 ستمبر 2019م KSA 08:51 - GMT 05:51
امریکی وزیر دفاع کا خلیج میں تیل کے تحفظ کے لیے نئی عسکری کُمک کا اعلان
دبئی ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ

امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر نے جمعے کی شام تاخیر سے جاری ایک بیان میں خلیج میں امریکی عسکری کمک بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ پیش رفت سعودی عرب میں تیل کی دو تنصیبات پر حملوں کے بعد سامنے آئی ہے۔

پینٹاگان کے صدر دفتر میں پریس کانفرنس کے دوران ایسپر نے واضح کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دفاعی نوعیت کی حامل امریکی فورسز بھیجے جانے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ فورسز سعودی عرب میں ارامکو کمپنی کی تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کے بعد دفاعی فضائی اور میزائل سسٹم پر توجہ مرکوز کریں گی۔

امریکی وزیر دفاع نے ایرانی فورسز کے ہاتھوں امریکی ڈرون طیارہ مار گرائے جانے اور برطانوی تیل بردار جہاز کو قبضے میں لینے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 14 ستمبر کو سعودی عرب میں تیل کی دو تنصیبات پر حملہ "ایران کی جانب سے ایک بڑی جارحیت ہے"۔

انہوں نے کہا کہ "ہم خلیج میں اپنے شراکت داروں کو سپورٹ کرتے ہیں اور ضرورت پڑی تو ہمارے پاس دیگر عسکری آپشنز بھی ہیں۔ ایسپر نے واضح کیا کہ تہران یمن میں حوثیوں کو ہتھیار فراہم کر رہا ہے۔

انہوں نے باور کرایا کہ ارامکو تنصیبات پر حملوں کے حوالے سے تحقیقات ریاض کی قیادت میں جاری ہیں۔

امریکی وزیر دفاع نے زور دے کر کہا کہ ان کا ملک سعودی عرب کے اپنے دفاع کے لیے ضروری ہر قسم کی مدد کرے گا۔

اس سے قبل جمعے کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے مرکزی بینک اور قومی ترقیاتی فنڈ پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے باور کرایا کہ اس بات کا فیصلہ وہ خود کریں گے کہ ایران پر عسکری ضرب کب لگائی جائے۔

آسٹریلوی وزیراعظم اسکوٹ موریسن کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایران پر عائد کی جانے والی پابندیاں مطلقا سخت ترین ہیں۔

اسی طرح امریکی صدر نے تہران کو خبردار کیا کہ واشنگٹن دنیا کی طاقت ور ترین فوج رکھتا ہے اور وہ ایران کے حوالے سے انتہائی درجے کے ضبط و تحمل کا مظاہرہ کر رہا ہے۔

مشترکہ پریس کانفرنس سے قبل ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران تقریبا دیوالیہ ہو چکا ہے اور اس کی اقتصادی حالت نہایت مشکل کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی قیادت پر لازم ہے کہ اپنا ملک بچانے کی خاطر وہ دہشت گردی کی سپورٹ کا سلسلہ روک دیں۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند