تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ایران پر حملہ آورملک ہی اصل میدان جنگ بنے گا: پاسداران انقلاب کے کمانڈر کی دھمکی
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 16 صفر 1441هـ - 16 اکتوبر 2019م
آخری اشاعت: ہفتہ 21 محرم 1441هـ - 21 ستمبر 2019م KSA 16:17 - GMT 13:17
ایران پر حملہ آورملک ہی اصل میدان جنگ بنے گا: پاسداران انقلاب کے کمانڈر کی دھمکی
ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل حسین سلامی
تہران ۔ ایجنسیاں

ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب کے کمانڈر نے خبردار کیا ہے کہ جو کوئی بھی ملک اسلامی جمہوریہ پر حملہ آور ہوگا تو اس کی سرزمین کو تنازع کا اصل میدانِ جنگ بنا دیا جائے گا۔

بریگیڈئیر جنرل حسین سلامی نے تہران میں ہفتے کے روز ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ ’’ جو کوئی بھی یہ چاہتا ہے کہ اس کی سرزمین میدان جنگ بنے تو وہ آگے بڑھے۔ہم کبھی کسی جنگ کو ایران کے علاقے تک آنے کی اجازت نہیں دیں گے۔‘‘

ایران پر چودہ ستمبر کو سعودی آرامکو کی دو تیل تنصیبات پر ڈرون حملوں میں ملوث ہونے کا الزام عاید کیا جارہا ہے جبکہ ایرانی عہدے دار ان حملوں کے بعد سے مختلف دھمکی آمیز بیانات جاری کررہے ہیں۔حسین سلامی کا یہ بیان بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔

امریکا کا ان حملوں کی ابتدائی تحقیقات کے حوالے سے کہنا ہے کہ ان میں ایران کسی نہ کسی طور ملوّث رہا ہے جبکہ ایران ان الزامات کی تردید کررہا ہے۔

ایران کے سرکاری ٹی وی نے حسین سلامی کا یہ بیان نشر کیا ہے اور اس میں انھوں نے مزید کہا ہے کہ ’’ محتاط رہیں۔کوئی بھی محدود جارحیت محدود نہیں رہے گی۔ہم سزا دیں گے اور یہ عمل اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک جارح مکمل طور پر تباہ نہیں ہوجاتا۔‘‘

انھوں نے مزید خبردار کیا ہے کہ ’’ایران کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے ڈرونز کو گرانے کا عمل جاری رہے گا،‘‘

واضح رہے کہ پاسداران انقلاب نے جون میں بین الاقوامی فضائی حدود میں آبنائے ہُرمز کے اوپر ایک امریکی ڈرون کو مارگرایا گیا تھا۔اس پر زمین سے فضا میں مارکرنے والا میزائل داغا گیا تھا۔

امریکی فوج نے اس واقعے کی تصدیق کی تھی اور کہا تھا کہ اس کو ایرانی نہیں بلکہ بین الاقوامی فضائی حدود میں مارگرایا گیا تھا۔اس نے ایران کے اس دعوے کو مسترد کردیا تھا کہ اس ڈرون کو ایران کی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر مارگرایا تھا۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند