تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
یمن: حوثی ملیشیا پر 300 خواتین کے جبری اغواء اور تشدد کا الزام
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 23 صفر 1441هـ - 23 اکتوبر 2019م
آخری اشاعت: پیر 23 محرم 1441هـ - 23 ستمبر 2019م KSA 07:28 - GMT 04:28
یمن: حوثی ملیشیا پر 300 خواتین کے جبری اغواء اور تشدد کا الزام
العربیہ ڈاٹ نیٹ ۔ اوسان سالم

بین الاقوامی ماہرین کے گروپ نے اپنی رپورٹ میں یمن میں ایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے ہاتھوں خواتین کے جبری اغواء اور تشدد سے متعلق لرزہ خیز الزامات سامنے آئے ہیں۔ ماہرین کے گروپ کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ حوثی ملیشیا نے"بے حیائی اور جسم فروشی" کے نام نہاد الزامات کے تحت درجنوں خواتین کو اغوا اور ان کے گمشدگیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی ہے۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پچھلے دو سالوں میں صنعا میں خواتین پر جسم فروشی، دھوکہ دہی اور بے حیائی کے الزام عائد کیے گئے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مذہبی تعلیمات کی خلاف ورزیک کی آڑ میں حوثی ملیشیا کے عناصر کو خواتین کے جلوسوں کو طاقت کے ذریعے کچلنےکی ہدایت کی گئی۔ حوثی ملیشیا نے 'جنرل پیپلز کانگرس' کی قیادت میں خواتین کی طرف سے دسمبر 2017 اور مارچ 2018 میں ہونے والے مظاہروں کو طاقت کے ذریعے کچلا گیا۔ خواتین ریلیوں کو کچلنے کے لیے حوثی ملیشیا کی طرف سے قائم کردہ لیڈیز فورس 'زینبیات' کی خواتین کو استعمال کیا گیا۔

ملیشیا کی طرف سے صنعاء میں درجنوں خواتین کو گرفتار اور انھیں قید کیا گیا۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ 'زینبیات' کی خواتین جنگجو گرفتار کی گئی خواتین کے خلاف اشتعال انگیز زبان، دھمکی آمیز لہجہ اور عصمت دری کی دھمکیاں دی جاتیں۔ خیال رہے کہ یمن میں حوثی ملیشیا کے ماتحت زینبیات اور دیگر خواتین گروپوں میں موجود خواتین جنگجوئوں کی تعداد 4000 سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ تفتیش کے مراحل میں حوثی عورتیں اور مرد سب شامل ہوتے ہیں۔ کئی مواقع پر حوثی مرد عناصر نے خواتین کی الگ کمروں میں تفتیش کی۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حوثی ملیشیا کے ہاتھوں متعدد لڑکیوں اور خواتین سماجی کارکنوں کو حراست میں لیا گیا تھا۔ ان کی تعداد 130 بتائی جاتی ہے۔

حراستی مراکز میں قید کی گئی خواتین کو جنرل پیپلز کانگرس کی خواتین کو ایک دوسرے سے الگ تھلگ اور دور رکھا جاتا ہے۔ دوران حراست ان کے ساتھ طرح طرح کے تشدد کے مکروہ حربے استعمال کیے جاتے ہیں۔ مخالفین سے تعلق رکھنے والی خواتین کو پابند سلاسل رکھنے کے لیے ان پر جسم فروشی جیسے سنگین الزامات عاید کیے جاتے ہیں۔ انہیں مارا پیٹا جاتا، بجلی کیے جھٹکے لگائے جاتے اور اعتراف جرم کے لیے انہیں دیگر جسمانی اور نفسیاتی اذیتیں دی جاتیں۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند