تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
'اسلام فوبیا' مسلمانوں کے لیے مغرب میں فضائی سفرکتنا مشکل ہوگیا
امریکا میں جہاز کے ٹوائلٹ کو دوبار استعمال کرنے پرپروازیں منسوخ
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 3 رجب 1441هـ - 27 فروری 2020م
آخری اشاعت: جمعہ 27 محرم 1441هـ - 27 ستمبر 2019م KSA 07:32 - GMT 04:32
'اسلام فوبیا' مسلمانوں کے لیے مغرب میں فضائی سفرکتنا مشکل ہوگیا
امریکا میں جہاز کے ٹوائلٹ کو دوبار استعمال کرنے پرپروازیں منسوخ
دبئی ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ

دنیا بھر میں اسلام فوبیا وباء کی طرح پھیل رہا ہے، حالانکہ بہت سے لوگ اکثراسلامو فوبیا کے رجحان کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے اسلام فوبیا بعض اوقات خوفناک اور کبھی کبھی جان لیوا بھی ہوسکتا ہے۔ اسی حوالے سے حال ہی میں 'اسپیڈ فیڈ' ویب سائٹ پر شائع مریم نبوت کے مضمون میں پچھلے کچھ سالوں میں اسلامو فوبیا کے بڑھتے ہوئے واقعات پر ایک نظر ڈالی گئی ہے۔ مضمون میں اسلام فوبیا کے پوری دنیا کے لاکھوں افراد پر اثر انداز ہونے والے اس بحران کی ایک انتہائی اندوہناک تصویر پیش کی گئی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اس وقت پوری دنیا کے دائیں بازو کے سیاستدان اسلامی عقیدے کے پیروکاروں کے خلاف مضحکہ خیز اور گمراہ کن نظریات کو فروغ دے رہے ہیں۔ اسلام کی اصل صورت بگاڑنے کی روک تھام میں کوئی مددگار نہیں ہے۔ لہذا پہلے سے زیادہ مسلمانوں کو امتیازی سلوک اور تعصب کا سامنا ہے۔

حال ہی میں امریکا میں اسلام فوبیا کا ایک ایسا ہی واقعہ پیش آیا جب ہوائی جہاز میں دو مسلمانوں کو نفرت اور تعصب کا سامناکرنا پڑا۔ اسلام فوبیا کی نفرت یہاں تک پھیلی کہ امریکی ایئرلائن کو پروازیں منسوخ کرنا پڑیں۔ رہا مسلمانوں کا معاملہ تو ان کے ساتھ توہین آمیز سلوک کیا گیا، گالم گلوچ تک کی گئی اور جہاز کے عملے نے دعویٰ کیا کہ طیارے میں مسلمانوں کی موجودگی کی وجہ سے انہیں کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

پریشانی کیوں؟

دونوں مسلمان باسم عبد الروف الخوالدیہ اور عصام عبد اللہ نے 14 ستمبر کو ہوائی جہاز میں سوار ہونےقبل ہوائی اڈے پر ملاقات کی تو انہوں نے ایک دوسرے کو معمول کے مطابق سلام کیا۔

ان میں سے کسی کو بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ ایک دوسرے کو دیکھنے اور علیک سلیک سے پہلے ایک ہی طیارے میں اکٹھے سفر کریں گے۔ ان کی ملاقات نے فضائی میزبانوں میں شکوک و شبہات پیدا کردیئے۔ مزید شبہ اس وقت ہوا جب عبداللہ ٹوائلٹ گئے اور ٹیک آف سے پہلے دو بار ٹوائلٹ ڈرین کا بٹن دبایا۔اس پر طیارے کے بعض مسافر بھی مشتعل ہوئے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا دوبار ٹوائلٹ جانا کوئی پریشانی کی بات تھی۔

جب عبداللہ باتھ روم سے باہر نکلا تو ایک فضائی میزبان اس پر جھپٹ پڑی۔ وہ اسے دیکھ کر چونک گیا۔ اس کی اپنی نشست پر واپسی کے دس منٹ بعد پرواز کو ملتوی کرنے کا اعلان کیا گیا۔ یہ پرواز الاباما سے ڈالاس جانے والی تھی۔

جب مسافرغصے میں طیارے سے نکلنے لگے تو عبداللہ نے بتایا کہ ایک شخص جو بہ ظاہر سیکیورٹی اہلکار دکھائی دے رہا تھا ان کی طرف بڑھا اور ان سے غصے میں الاباما کے سفر کی وجہ پوچھی۔

ان واقعات سے کسی خطرے کا احساس پیدا نہیں ہوا۔ تمام مسافروں کو مطلع کیا گیا کہ فلائٹ کی روانگی میں تین گھنٹوں کی تاخیر کی گئی ہے ، لیکن جب دونوں مسلمان نے ہوائی اڈے کے اندر اسٹار بکس کافی شاپ پر اکٹھے بیٹھنے کا فیصلہ کیا تو انہیں احساس ہوا کہ انہیں دیکھا جارہا ہے اور ان کی مکمل مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔ ہرایک انہیں شک وشبے کی نظر سے دیکھ رہا ہے۔

جب یہ دونوں مسلمان دوست اپنی نئی پرواز کے دروازے پر پہنچے تو وہاں پر موجود ایک شخص جس نے کہا کہ وہ ایف بی آئی کا اہلکار ہے نے کہا کہ کیا وہ علیحدہ سیکیورٹی والے علاقے میں عبداللہ سے تھوڑی بات کرسکتا ہے۔ ساتھ ہی اس نے کہاکہ ان دونوں کے سامان کی دوبارہ تلاشی لینا ہوگی۔

'ناکردہ گناہ کا احساس جرم'

'ایف بی آئی' کے اہلکارنے پھر عبداللہ سے پوچھ گچھ کی۔ عبداللہ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خلاف شکوک و شبہات پیدا ہوئے ہیں کیوں کہ اس نے دو بار ٹوائلٹ فلش کا بٹن دبادیا تھا۔ بدقسمتی سے اس عذر کو قبول نہیں کیا جا سکتا کیونکہ فضائی میزبان اور ایک مسافر نے عبداللہ کی طیارے میں موجودگی کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا تھا۔

اگرچہ بعد میں انہیں دیر سے پرواز کو پکڑنے کے لیے رہا کیا گیا لیکن اس نے وضاحت کی کہ اسے محسوس ہوا جیسا کہ میں کوئی مجرم ہوں۔ خاص طور پر جب اس نے فوج کی موجودگی میں پولیس اور کتوں کو ہوائی اڈے کے تفتیشی کمرے کے باہر منتظر دیکھا۔

ائیرپورٹ کے عہدیداروں کے ذریعہ عبداللہ کے دوست خواالدہ کو بھی تلاشی اور پوچھ گچھ کا نشانہ بنایا گیا۔ اس نے بتایا کہ میں سنہ1989ء امریکن ایئر لائن کا وفادار ہوں اور میں نے کمپنی کےجہازوں سے ایک ملین میل سے زیادہ کا سفر کیا ہے۔ خوالدیہ نے پریس کانفرنس میں پریس کو بتایا میری بے عزتی کی گئی۔ شک اور نسل پرستی کا سلوک کیا گیا۔ انفورسمنٹ سیکڑوں مسافروں کے سامنے گھنٹوں اپنی حرکات کا سراغ لگاتا رہتا ہے۔ "افسران نے سیکڑوں مسافروں کے سامنے مجھے گھنٹوں روکا ، اور مجھ سے عوامی جگہ پر تفتیش کی گئی۔ پھر بغیر کسی وجہ کے سامان دوبارہ چیک کیا۔ یہ مضحکہ خیز، ناقابل قبول اور غیر امریکی روایات کے خلاف ہے۔

پیالے پر داعش کا نام!

اسلام فوبیا کے رواں سال پیش آنے والے واقعات میں دو برطانیہ میں پیش آئے۔ ان میں ایک مسلمان غالبا ترکی سے پرواز پرآئے تھے۔ ان کے خلاف شکایت کی گئی کہ وہ مسلمان ہیں اور انہوں نے نماز کے سفید رومال پہن رکھے تھے۔

اگست میں ، ایک شخص مشرق وسطی کے روایتی لباس خاص طور پر ایک گاؤن پہنے ہوئے کافی کے لئے فلاڈیلفیا میں اسٹار بکس میں داخل ہوا۔ اسے حیرت ہوئی کہ "عزیز" نامی ملازم نے اسے کاغذ کی ایک پرچی دی جس پر اپنی باری کا انتظار کرنے کا لکھا گیا۔ اس پر'ISIS’ یعنی 'داعش' کا انگریزی مخفف لکھا گیا تھا۔ اس ملازم نے ایسا ہی ایک کاغذ اس کے کافی کپ پر چسپاں کردیا۔

اگرچہ اسلامو فوبیا کے حملے صرف ہوائی اڈوں اور ہوائی جہاز تک ہی محدود نہیں ہیں حالیہ برسوں کے دوران مغربی ملکوں میں مسلمانوں کو فضائی سفر کے دوران اسلام فوبیا کے مکروہ حربوں کا خاص طورپر نشانہ بنایا گیا۔

دنیا بھر کے ہوائی اڈوں پر بلاجواز تفتیش کے ذریعہ مسلمانوں سے امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ بعض اوقات کسی کو بلا وجہ ہوائی جہاز چھوڑنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

سنہ 2016 میں ایک عراقی طالب علم کو ساؤتھ ویسٹ ایئر لائن کی پرواز سے محض "انشاء اللہ" کہنے پر اتاردیا گیا تھا۔ وہ ٹیک آف سے پہلے اپنے ماموں کے ساتھ فون پر بات کررہاتھا جب اس نے انشاء اللہ کہا تو وہ یہ دعائی کلمہ اس کے لیے مصیبت بن گیا۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند