تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
افغانستان: صدارتی انتخابات کے دوران زور دار دھماکے میں 15 افراد زخمی
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 7 ربیع الثانی 1441هـ - 5 دسمبر 2019م
آخری اشاعت: ہفتہ 28 محرم 1441هـ - 28 ستمبر 2019م KSA 11:44 - GMT 08:44
افغانستان: صدارتی انتخابات کے دوران زور دار دھماکے میں 15 افراد زخمی
العربیہ ڈاٹ نیٹ ، ایجنسیاں

افغانستان کے جنوب میں قندھار میں ایک پولنگ اسٹیشن کے نزدیک دھماکے کے نتیجے میں 15 افراد زخمی ہو گئے۔ یہ دھماکا ایسے وقت ہوا جب افغانستان میں صدارتی انتخابات کے لیے ووٹنگ کا سلسلہ جاری ہے۔

میرویس ہسپتال کے ڈاکٹر نعمت اللہ نے ٹیلی فون پر پندرہ افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی اور بتایا کہ یہ تمام مرد ہیں۔

ملک میں صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں پولنگ اسٹیشنوں کے دروازے کھلنے کے بعد یہ پہلا پُرتشدد واقعہ ریکارڈ ہوا ہے۔

افغان طالبان تحریک نے انتخابات کے موقع پر تقریبا 96 لاکھ ووٹروں کو خبردار کیا ہے کہ وہ پولنگ اسٹیشنوں سے دُور رہیں۔

افغان وزارت داخلہ کے اعلان کے مطابق صدارتی انتخابات کے سلسلے میں ملک بھر میں 5 ہزار کے قریب پولنگ مراکز پر 72 ہزار سیکورٹی اہل کاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔ ہفتے کی صبح شروع ہونے والا پولنگ کا عمل مقامی وقت کے مطابق سہ پہر تین بجے ختم ہو جائے گا۔

رواں ماہ 5 ستمبر کو کابل میں ایک ٹرک دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 12 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اس سے قبل طالبان کی جانب سے جاری بیانات میں یہ بات دہرائی جاتی رہی ہے کہ ہر ووٹر کی زندگی کو خطرہ لاحق ہے۔

طالبان کے بیان میں کہا جا چکا ہے کہ تحریک اس جعلی عمل کو روکنے کا ارادہ رکھتی ہے اور اس سلسلے میں سیکورٹی اہل کاروں اور پولنگ کے مراکز کو نشانہ بنایا جائے گا۔ بیان میں افغان شہریوں کو خبردار کیا گیا کہ وہ انتخابات کے روز پولنگ مراکز سے دور رہیں اور اپنی زندگیوں کو خطرے میں نہ ڈالیں۔

افغانستان میں دھماکا خیز مواد سے بھرے ٹرک ایک سنگین خطرہ شمار کیے جاتے ہیں کیوں کہ ان میں گاڑیوں کے مقابلے میں گولہ بارود بھرنے کی زیادہ گنجائش ہوتی ہے۔

یاد رہے کہ مئی 2017 میں کابل میں جرمنی کے سفارت خانے کے نزدیک ہونے والے ایک ٹرک بم دھماکے میں 150 سے زیادہ افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہو گئے تھے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند