تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
افغانستان : امریکا کے فضائی حملے میں پانچ شہریوں کی ہلاکت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

اتوار 19 ربیع الاول 1441هـ - 17 نومبر 2019م
آخری اشاعت: اتوار 29 محرم 1441هـ - 29 ستمبر 2019م KSA 22:11 - GMT 19:11
افغانستان : امریکا کے فضائی حملے میں پانچ شہریوں کی ہلاکت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ
غزنی میں افغان شہری امریکی فضائی حملے میں مارے گئے افراد کی لاشیں رکھ کر احتجاج کررہے ہیں۔
کابل ۔ ایجنسیاں

افغانستان کے مشرقی صوبہ غزنی میں امریکا کی قیادت میں فوج کے فضائی حملے میں پانچ شہری ہلاک ہوگئے ہیں۔ افغانوں نے اس فضائی حملے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ہے اور صدر اشرف غنی اور امریکا کے خلاف سخت نعرے بازی کی ہے۔

اطلاعات کے مطابق سیکڑوں دیہاتی فضائی بمباری میں مرنے والوں کی لاشیں صوبائی دارالحکومت غزنی لے آئے تھے جہاں انھوں نے احتجاج کیا۔

صوبہ غزنی کے پولیس سربراہ کے ترجمان احمد خان سیرت نے بتایا ہے کہ ضلع خوجہ عمری میں ہفتے اور اتوار کی درمیان فضائی حملہ کیا گیا تھا اور علاقے کے مکین اتوار کو پانچ لاشیں لے کر صوبائی صدر دفاتر پہنچ گئے ہیں۔

شکرالدین خان نامی ایک افغان نے بتایا کہ ایک ڈرون سے میزائل داغا گیا تھا جس کے نتیجے میں اس کا ایک بیٹا اور ایک بھائی مارا گیا ہے۔ان کے علاوہ تین اور افراد موقع پر ہی مارے گئے تھے اور ایک شخص شدید زخمی ہوگیا تھا جو اسپتال میں پہنچ کر دم توڑ گیا ہے۔

کابل میں امریکی فوج نے ایک بیان میں غزنی کے ضلع خوجہ عمری اور خوجیانی میں دو فضائی حملوں کی تصدیق کی ہے لیکن یہ دعویٰ کیا ہے کہ ان دونوں اضلاع میں گیارہ طالبان جنگجو مارے گئے ہیں لیکن اس نے مذکورہ شہریوں کی ہلاکتوں کی تصدیق نہیں کی ہے۔

امریکی فوج نے یہ فضائی حملہ افغانستان میں صدارتی انتخابات کے لیے پولنگ کے انعقاد کے بعد کیا ہے۔ان انتخابات میں صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر عبداللہ عبدالہ کے درمیان مقابلہ ہے۔ہفتے کے روز پولنگ کے دوران بھی ملک کے مختلف علاقوں میں تشدد کے متعدد واقعات پیش آئے تھے اور ان میں تین افراد ہلاک اور کم سے کم چالیس زخمی ہوگئے تھے۔ ووٹروں نے انتخابی عملہ کی بدانتظامی ،مشینوں کی خرابی اور انتخابی بے ضابطگیوں کی شکایت کی ہے۔

افغانستان میں 2001ء میں طالبان کی حکومت کے خاتمے کے بعد یہ چوتھے صدارتی انتخابات تھے۔طالبان نے افغان ووٹروں کو خبردار کیا تھا کہ وہ پولنگ مراکز سے دور رہیں ، ورنہ انھیں حملوں میں نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔ انھوں نے نے سات پولنگ مراکز پر حملے کیے تھے۔

رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق ان انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی شرح بہت کم رہی ہے۔غیر سرکاری اعداد وشمار کے مطابق صرف بیس فی صد رجسٹرڈ ووٹروں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند