تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
اقوام متحدہ کا ترکی سے شام میں کردوں کے بے دردی سے قتل کی تحقیقات کا مطالبہ
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 29 جمادی الثانی 1441هـ - 24 فروری 2020م
آخری اشاعت: منگل 15 صفر 1441هـ - 15 اکتوبر 2019م KSA 19:34 - GMT 16:34
اقوام متحدہ کا ترکی سے شام میں کردوں کے بے دردی سے قتل کی تحقیقات کا مطالبہ
جنیوا ۔ ایجنسیاں

اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق کمشنر نے کہا ہے کہ شام میں ایک مسلح گروپ کے ہاتھوں بعض کرد جنگجوؤں اور ایک سیاست دان کے بے دردی سے قتل پر ترکی کو ذمے دار ٹھہرایا جاسکتا ہے۔ دفتر نے ترکی سے ان ہلاکتوں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

انسانی حقوق کمشنر دفتر کے ترجمان روپرٹ کولویل نے جنیوا میں منگل کے روز ایک بریفنگ میں کہا ہے کہ شام میں کردوں کی ہلاکتوں کی فوٹیج حاصل کی جارہی ہے۔انھیں شام کے سرحدی شہر منبج کے نزدیک ترکی کے اتحادی شامی گروپ احرار الشرقیہ کے جنگجوؤں نے گولیاں مار کر موت کی نیند سلا دیا تھا اور پھر ان کی فوٹیج انٹر نیٹ پر چڑھا دی تھی۔

ترجمان نے کہا کہ ’’ ترکی کو ان خلاف ورزیوں پر ذمے دار قرار دیا جاسکتا ہے کیونکہ اس کا ان گروپوں پر موثر کنٹرول ہے یا ان خلاف ورزیوں کے ارتکاب کے وقت وہی علاقے میں فوجی کارروائیوں کا ذمے دار تھا۔‘‘

انھوں نے ترک حکام پر زور دیاکہ’’ وہ فوری طور پر واقعے کی غیر جانبدارانہ ، شفاف اور آزادانہ تحقیقات کا آغاز کریں۔‘‘

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق کی اطلاع کے مطابق اختتام ہفتہ پر شام کے شمال مشرقی علاقے میں کرد ملیشیا کے زیر قیادت شامی جمہوری فورسز (ایس ڈی ایف) کے خلاف ترکی کی فوجی کارروائی میں شریک باغی جنگجوؤں نے تل ابیض کے جنوب میں مختلف اوقات میں نو شہریوں کو قریب سے گولیاں مار کر ہلاک کردیا تھا۔

ایس ڈی ایف کا کہنا تھا کہ مقتولین میں ان کی کرد سیاسی جماعت کی عہدہ دار ہفرین خلف اور ان کا ڈرائیور بھی شامل تھا۔انھیں ان کی کار سے اتار کر گولیوں کا نشانہ بنایا گیا تھا۔اس کا مزید کہنا تھا ’’یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ترک ریاست نے غیر مسلح شہریوں کےخلاف اپنی مجرمانہ پالیسی جاری رکھی ہوئی ہے۔‘‘

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند