تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
اگر روس شام کی مدد کرے تو یہ زیادہ ’اچھا‘ ہوگا:ڈونلڈ ٹرمپ
ترکی کے خلاف امریکا کی پابندیوں کا نفاذ خطے میں لڑائی میں حصہ لینے سے بہتر ہے
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 16 ربیع الاول 1441هـ - 14 نومبر 2019م
آخری اشاعت: بدھ 16 صفر 1441هـ - 16 اکتوبر 2019م KSA 19:01 - GMT 16:01
اگر روس شام کی مدد کرے تو یہ زیادہ ’اچھا‘ ہوگا:ڈونلڈ ٹرمپ
ترکی کے خلاف امریکا کی پابندیوں کا نفاذ خطے میں لڑائی میں حصہ لینے سے بہتر ہے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اوول آفس میں اطالوی صدر سرگیو میٹریلا سے بدھ کے روز ملاقات کررہے ہیں۔اس موقع پر وزیر خارجہ مائیک پومپیو بھی موجود ہیں۔
واشنگٹن ۔ ایجنسیاں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام کے شمال مشرقی علاقے میں ترکی کی کردوں کے خلاف فوجی کارروائی کو ایک نیا رُخ دینے کی کوشش کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ یہ تو ترکی اور شام کے درمیان لڑائی ہے اور اگر روس شام کی مدد کرے تو یہ زیادہ ’’ اچھا ‘‘ ہوگا۔

صدر ٹرمپ نے بدھ کے روز وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ترکی کے خلاف امریکا کی پابندیوں کا نفاذ خطے میں لڑائی میں حصہ لینے سے بہتر ہے۔

شام کے شمال مشرقی علاقے میں کرد ملیشیا کے زیر قیادت شامی جمہوری فورسز ( ایس ڈی ایف) ماضی میں داعش کے خلاف جنگ میں امریکا کی اتحادی رہی ہیں۔ترکی نے گذشتہ ہفتے صدر رجب طیب ایردوآن اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان فون پر گفتگو کے بعد ان فورسز کے خلاف فوجی کارروائی شروع کردی تھی۔اس کاکہنا ہے کہ وہ شام کے اس سرحدی علاقے میں محفوظ قائم کرنا چاہتا ہے جہاں ترکی میں مقیم شامی مہاجرین کو منتقل کیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے ترکی کی فوجی کارروائی سے قبل وہاں موجود امریکی فوجیوں کے انخلا کا اعلان کیا تھا۔اس فیصلے پر امریکا کی دونوں جماعتوں صدر ٹرمپ پر یہ الزام عاید کررہی ہیں کہ انھوں نے داعش مخالف جنگ میں ملک کے ایک اہم اتحادی گروپ سے منھ موڑ لیا ہے۔امریکی صدر نے اس تنقید کا رُخ پھیرنے کے لیے سوموار کو ترکی کے خلاف اقتصادی پابندیاں عاید کردی تھیں اور اس سے فوری طور پر کردوں کے خلاف فوجی کارروائی روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔

امریکا کے نائب صدر مائیک پینس کا کہنا ہے صدر ٹرمپ نے ترک ہم منصب سے فون پر گفتگو میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا تھا۔انھوں نے کہا کہ وہ اس بحران میں ثالثی کے لیے بہت جلد خطے کے دورے پر روانہ ہورہے ہیں۔

دریں اثناء ترک صدر کے دفتر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ طیب ایردوآن امریکی نائب صدر سے ملاقات کریں گے۔ اس سے پہلے انھوں نے ترکی کے دورے پر آنے والے مائیک پینس سے ملاقات نہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند