تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر کا غیرعلانیہ دورۂ افغانستان
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعہ 17 ربیع الاول 1441هـ - 15 نومبر 2019م
آخری اشاعت: اتوار 20 صفر 1441هـ - 20 اکتوبر 2019م KSA 19:18 - GMT 16:18
امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر کا غیرعلانیہ دورۂ افغانستان
مارک ایسپر کا جولائی میں پینٹاگان کی سربراہی سنبھالنے کے بعد افغانستان کا یہ پہلا دورہ ہے۔
کابل ۔ ایجنسیاں

امریکا کے وزیر دفاع مارک ایسپر اتوار کو افغانستان کے غیر علانیہ دورے پر کابل پہنچے ہیں۔

جولائی میں پینٹاگان کی سربراہی سنبھالنے کے بعد ان کا افغانستان کا یہ پہلا دورہ ہے اور وہ ایسے وقت میں افغان قیادت سے بات چیت کے لیے آئے ہیں جب جنگ زدہ ملک میں قیام امن کے لیے طالبان اور امریکا کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہیں اور امریکا کے فوجی مشن کی تعیناتی برقرار رکھنے کے بارے میں غیر یقینی کی صورت حال پائی جاتی ہے۔

افغان وزارت دفاع کے ترجمان فواد امان کے مطابق مارک ایسپر ’’اہم لیڈروں سے ملاقات کرنے والے تھے اور انھیں امریکی فوج کی آپریشنل سرگرمیوں کے بارے میں بریف کیا جانا تھا۔‘‘ تاہم کابل میں امریکی فورسز کے ہیڈ کوارٹرز نے مارک ایسپر کے اس دورے کے بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

امریکا اور طالبان گذشتہ ماہ ایک امن معاہدے پر دست خط کرنے والے تھے لیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے طالبان سے گذشتہ کئی ماہ سے جاری مذاکرات اچانک ختم کرنے کا اعلان کردیا تھا۔انھوں نے افغانستان میں طالبان کے بم حملے میں ایک امریکی فوجی کی ہلاکت کے بعد یہ مذاکرات ختم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

اگراب فریقین میں مذاکرات بحال ہوجاتے ہیں اور ان میں مجوزہ امن معاہدہ طے پاجاتا ہے تو اس کے تحت افغانستان سے امریکی فوج کا بتدریج انخلا ہوگا لیکن اس کے بدلے میں طالبان بھی سلامتی سے متعلق بعض یقین دہانیاں کرائیں گے۔

امریکا کے خصوصی ایلچی برائے افغانستان زلمے خلیل زاد نے چند روز قبل ہی پاکستان میں طالبان سے غیر رسمی بات چیت کی ہے جس کے بعد اس بات کا امکان پیدا ہوا ہے کہ امریکا امن مذاکرات کی بحالی چاہتا ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند