تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ترک اور روسی صدور شامی شہروں سے کرد فورسز کو ہٹانے پر تبادلہ خیال کریں گے
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعہ 17 ربیع الاول 1441هـ - 15 نومبر 2019م
آخری اشاعت: اتوار 20 صفر 1441هـ - 20 اکتوبر 2019م KSA 18:36 - GMT 15:36
ترک اور روسی صدور شامی شہروں سے کرد فورسز کو ہٹانے پر تبادلہ خیال کریں گے
روسی وزیر خارجہ مولود شاوش اوغلو
انقرہ ۔ ایجنسیاں

ترکی اور روس آیندہ ہفتے سربراہ مذاکرات میں شام کے دو شہروں منبج اور کوبانی سے شامی کرد ملیشیا پیپلز پروٹیکشن یونٹس (وائی پی جی) کو ہٹانے پر تبادلہ خیال کریں گے۔

ترک وزیر خارجہ مولود شاوش اوغلو نے اتوار کو ایک انٹرویو میں یہ بات بتائی ہے۔ دونوں ممالک کے صدور کے درمیان روس کے ساحلی سیاحتی مقام سوچی میں منگل کے روز ملاقات ہو گی۔

ترکی نے گذشتہ جمعرات کو امریکا کے ساتھ شام کے شمال مشرقی علاقے میں کرد فورسز کے خلاف جاری اپنی فوجی کارروائی کو پانچ روز کے لیے روکنے سے اتفاق کیا تھا تاکہ اس دوران میں وائی پی جی کے جنگجو مجوزہ ’’محفوظ زون‘‘ سے پیچھے ہٹ جائیں۔

شاوش اوغلو نے نشریاتی ادارے کنال 7 سے انٹرویو میں ترکی کی جانب سے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ شمالی شام میں روس کی حمایت یافتہ شامی حکومت کی فورسز کو جن علاقوں میں تعینات کیا گیا ہے، وہاں سے وائی پی جی کو ہٹا دیا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ جنگ بندی کے عرصے کے خاتمے کے بعد ترکی ’’محفوظ زون‘‘ میں وائی پی جی کے کسی ایک جنگجو کو بھی نہیں دیکھنا چاہتا ہے۔

ترک صدر رجب طیب ایردوآن منگل کو اپنے روسی ہم منصب ولادی میر پوتین سے ہنگامی بات چیت کے لیے سوچی جائیں گے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند