تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
امریکا کا شمالی شام میں اپنے بعض فوجیوں کو بدستور تعینات رکھنے پر غور
امریکی فوجیوں کی تعیناتی کا مقصد شامی تیل کے وسائل کو داعش کے ہاتھ لگنے سے روکنا ہے:مارک ایسپر
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

منگل 14 ربیع الاول 1441هـ - 12 نومبر 2019م
آخری اشاعت: پیر 21 صفر 1441هـ - 21 اکتوبر 2019م KSA 18:34 - GMT 15:34
امریکا کا شمالی شام میں اپنے بعض فوجیوں کو بدستور تعینات رکھنے پر غور
امریکی فوجیوں کی تعیناتی کا مقصد شامی تیل کے وسائل کو داعش کے ہاتھ لگنے سے روکنا ہے:مارک ایسپر
امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر ۔
کابل ۔ ایجنسیاں

امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر نے کہا ہے کہ شام کے شمال مشرقی علاقے میں واقع تیل کے کنووں کے نزدیک بعض امریکی فوجیوں کو بدستور تعینات رکھنے پر غور کیا جارہا ہے۔ یہ امریکی فوجی شامی جمہوری فورسز (ایس ڈی ایف) کے ساتھ مل کر تیل کے ان کنووں کی نگرانی کریں گے تاکہ داعش یا دوسرے گروپ ان پر قبضہ نہ کرسکیں۔

مارک ایسپر نے افغانستان میں سوموار کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’اس وقت اس علاقے کے نزدیک مختلف شہروں میں ہمارے ( امریکی) فوجی موجود ہیں۔ان کی وہاں موجودگی کا مقصد تیل کی آمدن کو داعش یا دوسرے گروپوں کے ہاتھ لگنے سے روکنا ہے کیونکہ انھیں ان کی شرپسند سرگرمیوں کے لیے یہ مالی وسائل درکار ہیں۔‘‘

وزیر دفاع نے بتایا کہ ’’بعض فوجیوں کو وہاں برقرار رکھنے کے موضوع پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے لیکن ان فوجیوں کی تعداد یا اس ضمن میں کسی اور معاملہ کے بارے میں ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت شام کے شمال مشرقی علاقے سے امریکی فوجیوں کا انخلا جاری ہے لیکن ابھی آئیل فیلڈز کے نزدیک امریکی فوجی اپنی شراکتی فورسز کے ساتھ موجود ہیں اور ان کی تعیناتی برقرار رکھنے پر غور تو کیا جارہا ہے لیکن ابھی انھوں نے خود اس آپشن کو پیش نہیں کیا ہے لیکن پینٹاگان کا کام مختلف آپشنز پر غور کرنا ہے۔

مارک ایسپر اتوار کو افغانستان کے غیر علانیہ دورے پر کابل پہنچے تھے۔جولائی میں پینٹاگان کا سربراہ بننے کے بعد ان کا افغانستان کا یہ پہلا دورہ ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند