تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ایردوآن ایٹم بم حاصل کرنا چاہتے ہیں : نیویارک ٹائمز
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 7 ربیع الثانی 1441هـ - 5 دسمبر 2019م
آخری اشاعت: پیر 21 صفر 1441هـ - 21 اکتوبر 2019م KSA 12:56 - GMT 09:56
ایردوآن ایٹم بم حاصل کرنا چاہتے ہیں : نیویارک ٹائمز
واشنگٹن - بندر الدوشی

امریکی اخبار New York Times نے خطے میں رجب طیب ایردوآن کے عزائم سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترکی کے صدر شام (پر قبضے) سے بھی آگے جانے کی خواہش رکھتے ہیں ،،، وہ خفیہ طور پر جوہری ہتھیار تیار کرنا چاہتے ہیں۔ اخبار کے مطابق اس حوالے سے ایردوآن کے پاس ایک خفیہ پروگرام ہے جو خطے کے استحکام کے لیے خطرہ ہے۔

نیویارک ٹا ئمز کا کہنا ہے کہ امریکا اس حوالے سے حقیقی خدشات رکھتا ہے کہ ترکی میں انجرلیک کے فوجی اڈے میں امریکی بم موجود ہیں۔

اخبار کے مطابق شام میں کردوں کے خلاف فوجی آپریشن سے قبل ستمبر میں ایردوآن نے اپنی حکمراں جماعت کے ایک اجلاس میں واضح طور پر کہا تھا کہ "بعض ممالک کے پاس نیوکلیئر وار ہیڈز کے حامل میزائل ہیں مگر مغرب کا یہ اصرار ہے کہ ہم یہ حاصل نہیں کر سکتے ، میں یہ بات قبول نہیں کر سکتا"۔

اخبار نے ایردوآن کی دھمکی کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے استفسار کیا ہے کہ جب امریکا ترک سربراہ کو شام کی اراضی میں واشنگٹن کے کرد حلیفوں پر حملے سے نہیں روک سکا تو پھر وہ ترکی کو جوہری ہتھیار تیار کرنے اور متعلقہ ٹکنالوجی حاصل کرنے کے حوالے سے ایران کے نقش قدم پر چلنے سے کیسے روک سکتا ہے ؟

امریکی اخبار نے باور کرایا ہے کہ ایردوآن زیادہ جدید جوہری پروگرام کے حوالے سے اپنی راہ پر گامزن ہیں تاہم ایران نے جتنا کچھ اکٹھا کر لیا ہے ، ترکی اس سے بہت پیچھے ہے۔ ترکی کے پاس واقعتا جوہری بم کا پروگرام، یورینیم کا ذخیرہ اور ریسرچ ری ایکٹرز ہیں۔ ان کے علاوہ وہ جوہری دنیا کے مشہور ترین نیٹ ورک اور پاکستان کے جوہری ہتھیار کے خالق ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے ساتھ پوشیدہ تعلقات بھی رکھتا ہے۔

ترکی نے بجلی پیدا کرنے والا پہلا بڑا ری ایکٹر روس کی معاونت سے بنایا۔ قابل تشویش بات یہ ہے کہ ایردوآن نے یہ نہیں بتایا کہ وہ جوہری فُضلے کے ساتھ کس طرح نمٹیں گے جو کہ جوہری ہتھیاروں کے لیے ایندھن فراہم کر سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ترکی کو جوہری ہتھیار کے حصول میں کئی سال لگ جائیں گے الّا یہ کہ ایردوآن کوئی ہتھیار خرید لیں۔

اخبار کے مطابق جوہری معاملے میں ایک اور خطرناک پہلو یہ ہے کہ ترکی کی اراضی پر امریکا کے 50 کے قریب جوہری بم ذخیرہ ہیں۔ امریکا نے کبھی صراحتا ان کی موجودگی کا اعتراف نہیں کیا۔ بدھ کے روز ٹرمپ سے جب امریکا کے زیر کنٹرول انجرلیک اڈے میں مذکورہ ہتھیاروں کی حفاظت کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ "ہم پوری طرح پر اعتماد ہیں، ہمارا وہاں ایک بڑا فوجی اڈہ ہے ،،، ایک نہایت طاقت ور فوجی اڈہ"۔

امریکی اخبار نے خبردار کیا ہے کہ مذکورہ فضائی اڈہ ترک حکومت کے زیر انتظام ہے اور اگر ترکی کے ساتھ تعلقات میں بگاڑ آیا تو اس اڈے تک امریکی رسائی کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔

ترکی کی سرزمین 6 دہائیوں سے زیادہ عرصے تک امریکی جوہری ہتھیاروں کا اڈہ رہی ہے۔ تاہم کچھ عرصہ قبل امریکی ذمے داران نے کئی مواقع پر ان ہتھیاروں کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا جن کا اب روس کے مقابل کوئی تزویراتی استعمال باقی نہیں رہا۔ تاہم یہ نیٹو کی حکمت عملی کا حصہ تھا تا کہ علاقائی کھلاڑیوں کو زیر نگرانی رکھا جا سکے اور ترکی کو یہ بات محسوس نہ ہو کہ اسے جوہری بم تیار کرنے کی ضرورت ہے۔

اخبار نے واضح کیا کہ جب ایردوآن نے جولائی 2016 میں فوجی انقلاب کی کوشش کو کچل دیا تو اوباما انتظامیہ نے خاموشی کے ساتھ ایک وسیع ہنگامی منصوبہ وضع کیا۔ سابقہ امریکی حکومتی عہدے داران کے مطابق اس منصوبے کا مقصد ترکی کے انجرلیک اڈے سے ہتھیاروں کو تلف کرنا تھا۔ تاہم اس منصوبے پر عمل درامد نہ ہو سکا کیوں کہ اس بات کا قوی اندیشہ تھا کہ امریکی ہتھیاروں کی تلفی کے نتیجے میں ترکی کے ساتھ اتحاد سبوتاژ ہو سکتا ہے اور شاید اس سے ایردوآن کو موقع مل جائے کہ وہ اپنا جوہری اسلحہ خانہ بنانے کا آغاز کر دیں۔

امریکی اخبار کا کہنا ہے کہ ترکی نے 1979 میں چند عدد چھوٹے ریسرچ ری ایکٹروں کو چلانا شروع کیا تھا۔ اس نے 1986 سے استنبول میں ایک تجرباتی فیکٹری میں ری ایکٹرزوں کا ایندھن تیار کیا۔ ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے ایک سابق سینئر معائنہ کار اولے ہائنون کے مطابق ترکی اپنی جوہری صلاحیتوں کو ترقی دے رہا ہے اور ان کے پاس اعلی درجے کا مواد موجود ہے۔ معائنہ کار نے مزید کہا کہ ترکی بڑے پیمانے پر غیر ملکی معاونت سے 4 سے 5 برس کے دوران یا پھر اس سے بھی جلد جوہری بم کی دہلیز تک پہنچ سکتا ہے۔ ہائنون کے مطابق ماسکو اب ترکی کے جوہری منصوبوں اور طویل المیعاد منصوبہ بندی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ واضح رہے کہ ترکی بھی ایران کی طرح اپنے جوہری پرگرام کو پر امن شہری مقاصد کی خاطر قرار دیتا ہے۔

جوہری ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ ایٹم بم کے حصول کے سلسلے میں دشوار ترین پہلو ڈیزائننگ یا منصوبہ بندی نہیں بلکہ ایندھن کا حصول ہے۔ بسا اوقات شہری مقاصد کے لیے جوہری توانائی کا پروگرام مذکورہ ایندھن تیار کرنے اور خفیہ جوہری اسلحہ خانہ بنانے کے لیے ایک دھوکے کے مترادف ہوتا ہے۔

ترکی کے پاس یورینیم کا ذخیرہ ہے اور اس نے کئی دہائیوں سے یورینیم کو پلوٹونیم میں تبدیل کرنے کے لیے مطلوب ٹکنالوجی سیکھنے پر بڑی توجہ دی ہے۔ یہ دونوں مواد ایٹم بم تیار کرنے کے لیے بنیادی اجزا کی حیثیت رکھتے ہیں۔ سال 2012 میں کارنیگی انٹرنیشنل فاؤنڈیشن فار پیس نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ ترکی نے اپنے جوہری آپشنز کو کھلا رکھا ہے۔

جرمن وزارت دفاع کے ایک سابق ذمے دار ڈاکٹر روہلے کا کہنا ہے کہ انٹیلی جنس ذرائع کا خیال ہے کہ ترکی کے پاس سینٹری فیوجز کی ایک بڑی تعداد ہے۔

امریکی اخبار کے مطابق اپریل 2018 میں روسی صدر ولادی میر پوتین نے ترکی کا دورہ کیا۔ یہ ترکی میں 20 ارب ڈالر کی لاگت سے ایک جوہری اسٹیشن قائم کرنے کے سرکاری آغاز کی جانب اشارہ تھا۔

جوہری اسٹیشنوں کی تعمیر روس کے لیے سب سے زیادہ منافع بخش برآمدات میں سے ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند