تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
نینسی پلوسی غیر علانیہ دورے پر افغانستان جا پہنچیں
صدر ٹرمپ نینسی پلوسی کے دورہ اردن پر متعرض، اوباما کی ریڈ لائن کہاں گئی؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

منگل 21 ربیع الاول 1441هـ - 19 نومبر 2019م
آخری اشاعت: پیر 21 صفر 1441هـ - 21 اکتوبر 2019م KSA 09:13 - GMT 06:13
نینسی پلوسی غیر علانیہ دورے پر افغانستان جا پہنچیں
صدر ٹرمپ نینسی پلوسی کے دورہ اردن پر متعرض، اوباما کی ریڈ لائن کہاں گئی؟
نینسی پلوسی
واشنگٹن - بندر الدوشی، ایجنسیاں

امریکا کے ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پلوسی اور کانگریس کے سینئر ارکان غیر علانیہ دورے پر افغانستان پہنچ چکے ہیں۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق نینسی پلوسی اتوار کو کابل پہنچیں جہاں انھوں نے افغان صدر اشرف غنی، امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر اور امریکی فوج کے کمانڈروں و فوجیوں سے ملاقاتیں کیں۔

نیسنی پلوسی نے افغانستان کا دورہ ایسے موقع پر کیا ہے کہ جب امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر بھی اُسی روز افغانستان پہنچے ہیں۔

ہاؤس اسپیکر اور وزیر دفاع کے ایک ہی روز دورۂ افغانستان کو 'اتفاق' قرار دیا جا رہا ہے۔ جب کہ مارک ایسپر کا کہنا تھا کہ ان کے دورے کا مقصد امن معاہدے کا حصول ہے اور آگے بڑھنے کا یہی بہترین طریقہ ہے۔

نینسی پلوسی کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شدید مخالف سمجھا جاتا ہے اور انہوں نے صدر کے مواخذے کی تحقیقات کا بھی اعلان کر رکھا ہے جب کہ ان کے اچانک دورۂ افغانستان کو بھی خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے۔

امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر بھی افغان صدر اشرف غنی اور امریکی فوجیوں سے ملاقات کریں گے۔ دورہ افغانستان کے دوران صحافیوں سے گفتگو میں مارک ایسپر کا کہنا تھا کہ انہیں امید ہے کہ وہ ایک سیاسی معاہدے پر پہنچ جائیں گے اور اس سے وہ مقاصد حاصل ہوں گے جو ہم کرنا چاہتے ہیں۔

اتوار کو جاری اپنے بیان میں نینسی پلوسی نے کہا ہے کہ طالبان سے مذاکرات کے لیے ہونے والی کوششوں سے متعلق ان کے وفد کو امریکی سفارت کاروں نے بریفنگ دی ہے۔ وہ افغان چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ، سول سوسائٹی کے رہنماؤں اور خواتین سے بھی ملاقاتیں کریں گی۔
نینسی پلوسی کا مزید کہنا تھا "ہم سمجھتے ہیں کہ قیام امن کے لیے مذاکرات میں افغانستان کی خواتین کی شمولیت بھی ضروری ہے۔"

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ماہ کابل میں ہونے والے ایک دھماکے میں امریکی فوجی کی ہلاکت کے بعد افغان طالبان سے امن مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس اعلان کے بعد مختلف حلقوں کی جانب سے صدر ٹرمپ پر شدید تنقید کی جا رہی تھی۔

افغانستان میں موجود ہاؤس اسپیکر نینسی پلوسی کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ ان کے وفد نے کرپشن سے نمٹنے کی اہمیت پر زور دیا ہے جو افغانستان کی سیکیورٹی اور افغان عوام کے مستحکم اور خوشحال مستقبل کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ انہوں کہا کہ ہمیں افغانستان کے حالیہ صدارتی انتخابات کے نتائج میں تاخیر سے متعلق بھی معلوم ہوا ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ اس کے نتائج جلد سامنے آجائیں گے۔

درایں اثنا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پلوسی کے سینئر ارکان کانگریس کی معیت میں اردن کے دورے کی شدید مذمت کی ہے جس میں انھوں نے اردنی حکام کے ساتھ شام کی صورت حال پر تبادلہ کیا۔

انھوں نے شامی بحران کو اوباما انتظامیہ کی تباہ کن میراث قرار دیتے ہوئے سوال کیا تھا کہ صدر اوباما نے شام میں کس بات کو ’’سرخ لکیر‘‘ قرار دیا تھا؟

ایک ٹویٹ میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’’نینسی پلوسی اردن کا دورہ کرنے والے ایک نو رکنی وفد کی قیادت کر رہی ہیں جس میں آدم شیف نامی بد عنوان شخص شامل ہے تاکہ شام کی صورت حال کی تحقیقات کر سکیں۔ نینسی پلوسی کو جاننا چاہیے کہ صدر اوباما نے شام سے متعلق سرخ لکیر مٹی میں کیوں کھینچی اور پھر اس ضمن میں کچھ نہیں کیا۔ شام کا سارا وقار خاک میں مل گیا۔ میں عملی اقدام کیا ۔۔۔ 58 میزائل داغے ۔۔ اوباما کی غلطی نے لاکھوں افراد کی جان لے لی۔‘‘

نینسی پلوسی اور کانگرس کے سینئر ارکان نے ہفتے کی شب شاہ عبداللہ سمیت اردن کے دیگر اعلی عہدیداروں کے ساتھ مذاکرات کیے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند