تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
شام میں 500-600 امریکی فوجی موجود رہیں گے: جنرل مارک میلے
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

اتوار 19 ربیع الاول 1441هـ - 17 نومبر 2019م
آخری اشاعت: اتوار 12 ربیع الاول 1441هـ - 10 نومبر 2019م KSA 22:06 - GMT 19:06
شام میں 500-600 امریکی فوجی موجود رہیں گے: جنرل مارک میلے
امریکی فوجی شام میں تیل کے کنووں کے نزدیک گشت کررہے ہیں۔
واشنگٹن ۔ ایجنسیاں

امریکا کے چیئرمین جائنٹ چیفس آف اسٹاف مارک میلے نے کہا ہے کہ شام میں داعش کے جنگجوؤں کے مقابلے کے لیے پانچ سو سے چھے سو تک امریکی فوجی موجود رہیں گے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں شام میں تیل کے کنووں کے تحفظ کے نام پر فوج کے توسیعی مشن کی منظوری دی ہے لیکن اس فیصلے سے پہلے انھوں نے گذشتہ ماہ شام میں موجود اپنے تمام فوجیوں کو واپس بلانے کا اعلان کیا تھا۔

جنرل مارک میلے نے اتوار کو اے بی سی کے پروگرام’’یہ ہفتہ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئےشام میں اپنے فوجیوں کو بدستور تعینات رکھنے کی یہ توجیہ بیان کی ہے کہ ’’خطے میں داعش کے جنگجوؤں پر بدستور دباؤ برقرار رکھا جانا چاہیے۔‘‘

تاہم ان کے شام میں چھے سو تک فوجیوں کو تعینات رکھنےکے اس اعلان سے یہ واضح نہیں ہوا کہ ان میں قریباً وہ دوسو فوجی بھی شامل ہیں یا نہیں جو شام کے جنوب میں امریکا کے التنف میں واقع فوجی اڈے پر موجود ہیں۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اکتوبر کے اوائل میں ترکی کی شام کے شمال مغربی علاقے میں کردملیشیا کے خلاف فوجی کارروائی سے قبل جنگ زدہ ملک سے تمام قریباً ایک ہزار فوجیوں کو واپس بلانے کا اعلان کیا تھا۔انھیں اس فیصلے پر اندرون اور بیرون ملک کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھااور ان پرامریکا کی اتحادی شامی جمہوری فورسز ( ایس ڈی ایف) کو بے دست وپا کرکے تنہا چھوڑنے کے الزامات عاید کیے جاتے رہے ہیں۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند