تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
یورپی گیس چیلنج نے ترکی کو 76 ارب یورو کے خسارے سے دوچار کر دیا
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 14 ربیع الثانی 1441هـ - 12 دسمبر 2019م
آخری اشاعت: بدھ 15 ربیع الاول 1441هـ - 13 نومبر 2019م KSA 06:54 - GMT 03:54
یورپی گیس چیلنج نے ترکی کو 76 ارب یورو کے خسارے سے دوچار کر دیا
قاہرہ ۔ اشرف عبدالحمید

ترک حکومت کی جانب سے پیر کے روز جاری کردہ اس علان کے بعد یورپی ممالک کی پالیسی کیا ہوگی جس میں ترکی نے بحیرہ روم میں قبرص کے ساحل پر گیس کی تلاش اور اخراج کا کام جاری رکھنے اور یورپ کو چیلنج کرنے کا اعلان کیا تھا۔ حالانکہ یورپ نے دو روز قبل اس منصوبے کی وجہ سے ترکی پر پابندیاں بھی عاید کرنے کا اعلان کیا تھا۔

ترکی کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ اپنے حقوق کو بین الاقوامی قانون سے اٹھنے والے تحفظات کو ترک نہیں کرے گا۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ انقرہ کو دھمکی دینے کی خواہش کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ ترکی تیل اور گیس کی تلاش کی سرگرمیاں جاری رکھنے کے اپنے ارادے پرقائم ہے۔

 

بین الاقوامی پبلک قوانین ماہر پروفیسر ڈاکٹرایمن سلامہ نے انکشاف کیا ہے کہ ترکی کے اس چیلنج کا سامنا کرتے ہوئے یورپ انقرہ پر مزید پابندیاں عائد کر سکتا ہے۔ یورپی ملکوں میں ترکی کے اثاثے منجمد کیے جاسکتے ہیں۔

یورپی ممالک کی طرف سے معاشی پابندیوں کے پیکیج کے کے طور پر انقرہ پر مزید پابندیاں عاید کی جا سکتی ہیں اور یہ کام کسی دھمکی یا جبر کے بغیر بھی ہوسکتا ہے۔ اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل چار کی شق دو میں واضح کیا گیا ہے کہ کسی بھی ریاست کی علاقائی سالمیت یا سیاسی آزادی کے خلاف یا دوسری صورت میں اقوام متحدہ کے مقاصد سے متصادم خطرہ یا طاقت کے استعمال کی مخالفت کرتا ہے۔

'العربیہ ڈاٹ نیٹ' سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر ایمن سلامہ نے کہا کہ اگر یورپ کی طرف سے عاید پابندیا انتقامی کارروائی کے تحت عاید کی جاتی ہیں تو یہ غیر قانونی تصور کی جائیں گی۔ اگر وہ پابندیاں ترکی کی طرف سے اپنے مفادات کے دفاع اس کی اجارہ داری روکنے کے لیے عاید کی جاتی ہیں تو انہیں بین الاقوامی اصولوں کے مطابق سمجھاجاتے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ پابندیاں انفرادی ممالک یا گروہوں کی طرف سے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے اٹھائے جانے والے خودمختار اقدامات ہوسکتی ہیں۔ اس وقت امریکا نے اپنے مفادات کے دفاع کے لیے چین ، روس اور ایران جیسے تین ممالک پر پابندیاں عاید کرنا شروع کی ہیں۔ حال ہی میں آسٹریلیا نے بھی چین پر پابندیاں عاید کی تھیں۔ مصری دانشور ایمن سلامہ نے سابق امریکی صدر آنجہانی رچرڈ ولسن کا مشہور قول دہرایا جو انہوں نے 1912ء میں بیان کیا تھا۔ صدر ویلسن نے کہا تھا کہ " مہلک ہتھیار رکھنے کے باوجود ہم جنگ کا راستہ کیوں نہیں اپناتے۔ اس لیے کہ ہمارے اس سے زیادہ مہلک ہتھیار پابندیوں کی شکل میں موجود ہے"۔

بین الاقوامی قانون کے پروفیسر نے کہا ہے کہ اگر قبرص کے ساحل سے بحیرہ روم میں گیس کی مسلسل تلاش کا منصوبہ بڑھتا رہا تو ترکی پر متوقع یورپی پابندیوں کی وجہ سے انقرہ سالانہ یوروپی یونین کی برآمدات کی کمی کا سامنا کرسکتا ہے۔ ایسی صورت میں یورپی ممالک ترک فوج کو اسلحہ کی برآمد پر پابندی لگاسکتی ہے۔ ترک کمپنیوں اور شخصیات کے اثاثے منجمد کیے جاسکتے ہیں۔ اس طرح ترکی کو یورپ سے حاصل ہونے والے 76 ارب یورو کے ریونیو سے محرومی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند