تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
امریکی عدالت نے داعشی ھدیٰ المثنیٰ بارے حکومتی فیصلے کی توثیق کر دی
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 14 ربیع الثانی 1441هـ - 12 دسمبر 2019م
آخری اشاعت: ہفتہ 18 ربیع الاول 1441هـ - 16 نومبر 2019م KSA 08:10 - GMT 05:10
امریکی عدالت نے داعشی ھدیٰ المثنیٰ بارے حکومتی فیصلے کی توثیق کر دی
العربیہ ڈاٹ نیٹ ۔ ایجنسیاں

امریکا کی ایک وفاقی عدالت نے حکومت کی طرف سے 'داعشی' دو شیزہ ھدیٰ المثیٰ کے بارے میں سنائے گئے فیصلے کی توثیق کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ھدیٰ امریکی شہری نہیں ہیں۔ حالانکہ ان کی پیدائش امریکا ہی کی ہے۔ وہ ایک یمنی سفارت کار کی صاحب زادی ہیں اور کچھ عرصہ پیشتر اس نے شام میں 'داعش' میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔

جمعہ کو خاتون کے اہل خانہ کے وکیل نے بتایا کہ وہ اپیل کرنے کا ارادہ کر رہے ہیں۔

ھدیٰ المثنیٰ نیو جرسی میں یمن سے آئے ہوئے ایک سفارتکار کے ہاں پیدا ہوئی تھیں جب کہ اس کی پرورش الاباما میں ہوئی۔

ھدیٰ کے بیرون ملک رہنے کی وجہ سے امریکی حکومت نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ کہ امریکی شہری نہیں ہے کیونکہ جب وہ پیدا ہوئی تو اس وقت اس کے والد امریکی شہری نہیں بلکہ ایک غیر ملکی سفارت کار تھے۔ حکومت نے ھدیٰ کا پاسپورٹ منسوخ کر دیا تھا۔

جمعرات کو فیڈرل سرکٹ جج ریگی والٹن نے اس فیصلے کو برقرار رکھا۔

دوسری طرف مثنیٰ کے وکیل چارلس سوئفٹ نے بتایا کہ انہوں نے فیصلہ کو کالعدم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔

فروری میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ انہوں نے داعش میں شامل ہونے والی 'ھدیٰ المثنیٰ ' کی امریکا واپسی روکنے کا حکم دیا تھا، جبکہ ان کے وکیل نے تصدیق کی ہے کہ وہ ایک امریکی شہری ہیں۔

ٹرمپ نے اس وقت ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ میں نے وزیرخارجہ مائیک پومپیو کو حکم دیا کہ شام میں ایک جیل میں قید ھدیٰ المثنیٰ کو امریکا نہ آنے دیا جائے۔

جارج واشنگٹن یونیورسٹی میں انسدادِ انتہا پسندی کے منصوبے کے مطابق، مثنیٰ امریکا میں یمن سے آنے والے والدین کے ہاں پیدا ہوئی تھیں۔ اس کی پیدائش اگرچہ امریکا کی ہے مگر امریکی حکومت اسے اپنا شہری تسلیم نہیں کرتی۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند