تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
سعودی عرب :غربِ اردن میں اسرائیلی آبادکاری سے متعلق امریکا کا نیا مؤقف مسترد
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 8 شعبان 1441هـ - 2 اپریل 2020م
آخری اشاعت: بدھ 22 ربیع الاول 1441هـ - 20 نومبر 2019م KSA 21:33 - GMT 18:33
سعودی عرب :غربِ اردن میں اسرائیلی آبادکاری سے متعلق امریکا کا نیا مؤقف مسترد
اسرائیل کے مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے میں یہودی آبادکاروں کی بستیاں ۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ

سعودی عرب نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کا مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کی یہودی آبادکاروں کو بسانے کے لیے قائم کردہ بستیوں سے متعلق نیا مؤقف یکسر مسترد کردیا ہے۔ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ امریکا غربِ اردن میں ان بستیوں کو بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی نہیں سمجھتا ہے۔

سعودی وزارت خارجہ نے بدھ کو ٹویٹر پر ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’مملکت امریکا کے اس بیان کو مکمل طور پر مسترد کرتی ہے جس میں اس نے کہا ہے کہ غربِ اردن میں اسرائیلی شہریوں کی آباد کاری کے لیے بستیوں کا قیام بین الاقوامی قانون کے منافی نہیں ہے۔‘‘

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے گذشتہ سوموار کو محکمہ خارجہ میں ایک تقریر میں کہا تھا:’’ٹرمپ انتظامیہ تمام جانب سے قانونی مباحث کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ غربِ اردن میں قائم اسرائیلی بستیاں بین الاقوامی قانون سے متصادم نہیں ہیں۔‘‘

امریکا نے اس طرح فلسطینی اراضی پر یہودی آبادکاروں کی بستیوں کی حمایت کا اظہار کیا ہے اور ان کے بارے میں گذشتہ چارعشروں سے اختیار کردہ مؤقف سے انحراف کیا ہے۔پہلے امریکا یہ کہتا رہا ہے کہ یہ یہودی بستیاں بین الاقوامی قانون سے کوئی مطابقت نہیں رکھتی ہیں۔امریکا کی غربِ اردن میں یہودی بستیوں کے بارے میں اب تک کی پالیسی 1978ء میں محکمہ خارجہ کی قانونی رائے پر مبنی تھی۔اس نے فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیوں کو بین الاقوامی قانون کے منافی قراردیا تھا۔

عرب لیگ نے مائیک پومپیو کے اس بیان کی مذمت کی ہے اور اس کو ایک بہت ہی منفی پیش رفت قرار دیا ہے۔تنظیم کے سیکریٹری جنرل احمد ابو الغیط نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’امریکا کے اس فیصلے کے نتیجے میں مقبوضہ فلسطینی علاقے میں تشدد میں اضافہ ہوگا اور فلسطینیوں کو اسرائیلی آبادکاروں کے ہاتھوں مزید ظالمانہ سلوک کا سامنا کرنا پڑے گا۔اس سے امن کے قیام کے امکانات مزید معدوم ہوجائیں گے۔‘‘

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق دفتر اور یورپی یونین نے اپنے اس دیرینہ مؤقف کا اعادہ کیا ہے کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کی قائم کردہ یہودی بستیاں غیرقانونی ہیں اور یہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تعمیر کی گئی ہیں۔انھوں نے ان یہودی بستیوں کے بارے میں ٹرمپ انتظامیہ کے نظرثانی شدہ مؤقف کو مسترد کردیا ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق دفتر کے ترجمان روپرٹ کولویلی نے منگل کے روز جنیوا میں نیوزبریفنگ میں کہا کہ’’کسی ایک ریاست کے مؤقف یا پالیسی میں تبدیلی سے بین الاقوامی قانون تبدیل نہیں ہوجاتا یا اس سے عالمی عدالت انصاف یا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی تشریح تبدیل نہیں ہوجاتی ہے۔‘‘

فلسطینی اتھارٹی نے بھی امریکا کے اس موقف کی مذمت کی ہے اور اس کو’’ مکمل طور پر بین الاقوامی قانون کے منافی قراردیا ہے۔‘‘فلسطینی صدر محمود عباس کے ترجمان نبیل ابو رودینہ کا کہنا ہے کہ’’امریکا بین الاقوامی قانون کی قراردادوں کو منسوخ کرنے کا مجاز نہیں اور اس کو کسی اسرائیلی بستی کو قانونی قرار دینے کا بھی حق نہیں ہے۔‘‘

مقبوضہ بیت المقدس سے تعلق رکھنے والے فلسطینی قانون ساز کونسل (پی ایل سی) کے رکن برنارڈ سبیلا نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’امریکی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور مفاہمتوں کے منافی ہے۔امریکا سمیت کسی بھی ریاست کو بین الاقوامی قانون اور اس کے تقاضوں سے انحراف کا حق حاصل نہیں ہے۔‘‘ان کا کہنا تھا کہ امریکا کے اس مؤقف سے ٹرمپ انتظامیہ کی مستقبل میں امن مذاکرات میں ایک ثالث کے کردار کی حیثیت سے ساکھ کو نقصان پہنچے گا۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند