تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
سعودی عرب کی تیل پالیسی کا مقصد عالمی مارکیٹ میں استحکام ہے: شاہ سلمان
سعودی آرامکو پر ایرانی ہتھیاروں سے حملہ کیا گیا تھا،حصص کی فروخت سے ملازمتوں کے ہزاروں مواقع پیدا ہوں گے
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 14 شعبان 1441هـ - 8 اپریل 2020م
آخری اشاعت: بدھ 22 ربیع الاول 1441هـ - 20 نومبر 2019م KSA 16:03 - GMT 13:03
سعودی عرب کی تیل پالیسی کا مقصد عالمی مارکیٹ میں استحکام ہے: شاہ سلمان
سعودی آرامکو پر ایرانی ہتھیاروں سے حملہ کیا گیا تھا،حصص کی فروخت سے ملازمتوں کے ہزاروں مواقع پیدا ہوں گے
شاہ سلمان بن عبدالعزیز
العربیہ ڈاٹ نیٹ

سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے کہا ہے کہ مملکت کی تیل پالیسی کا مقصد عالمی مارکیٹ میں استحکام اور صارفین اور پیدا کنندگان،دونوں کو فائدہ پہنچانا ہے۔

وہ بدھ کے روز سعودی عرب کی شوریٰ کونسل کے سالانہ اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔ شاہ سلمان نے سعودی آرامکو کے حصص کی پہلی مرتبہ سعودی اسٹاک ایکس چینج (تداول) کے ذریعے فروخت پر بھی روشنی ڈالی ہے۔

انھوں نے کہا کہ تداول کے ذریعے حصص کی فروخت سے سعودی عرب اور بیرون ملک سے تعلق رکھنے والے سرمایہ کار حصص خرید کرسکیں گے۔اس سے بیرونی سرمایہ کاری ملک میں آئے گی اور روزگار کے ہزاروں مواقع پیدا ہوں گے۔

شاہ سلمان نے مملکت کے اس مؤقف کا اعادہ کیا ہے کہ ستمبر میں سعودی آرامکو کی دو تیل تنصیبات پر حملوں کے لیے ایران کے ہتھیار استعمال کیے گئے تھے۔ اس حملے کے نتیجے میں آرامکو کی خام تیل کی پیداوار میں نصف (قریباً اٹھاون لاکھ بیرل یومیہ) تک کمی واقع ہوگئی تھی۔

اس حملے سے دنیا میں خام تیل کے سب سے بڑے پراسیسنگ پلانٹ کو نقصان پہنچا تھا مگر سعودی آرامکو نے ایک ہفتے میں اپنی پیداوار مکمل طور پربحال کر لی تھی۔ شاہ سلمان نے اس جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا’’اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ سعودی عرب عالمی مارکیٹ میں تیل کی کمی کوبروقت پورا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔‘‘

امریکی انٹیلی جنس کے مطابق سعودی آرامکو کی تنصیبات پر ایران سے حملہ کیا گیا تھا۔ایران نے بقیق اور ہجرۃ خریص میں واقع تیل تنصیبات پرحملوں کے لیے قریباً ایک درجن کروز میزائل داغے تھے اور بیس سے زیادہ ڈرونز چھوڑے تھے۔ان کے ٹکرانے سے ان دونوں تنصیبات میں آگ لگ گئی تھی۔

سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد نے بھی اپنی ابتدائی تحقیقات کے حوالے سے کہا تھا کہ اس حملے میں ایرانی ساختہ ہتھیار استعمال کیے گئے تھے۔عرب اتحاد کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے اس حملے کے چار روز بعد 18 ستمبر کو ایک نیوزکانفرنس میں کہا تھا کہ سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر حملوں کا اسپانسر ایران تھا مگر یہ حملے یمن سے نہیں کیے گئے تھے جبکہ ایران نے ایسا ثابت کرنے کی بھرپور کوشش کی تھی۔

ترجمان نے سعودی آرامکو کی اہم تنصیب بقیق پر حملے کو عالمی معیشت پر حملہ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ تیل تنصیبات پر حملوں کے لیے پچیس ڈرونز اور کروز میزائل استعمال کیے گئے تھے اورڈرون شمال سے جنوب کی سمت آئے تھے جبکہ یمن سعودی عرب کے جنوب میں واقع ہے اور اس کی سرحد سے متصل یمن کا شمالی صوبہ صعدہ حوثی باغیوں کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند