تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
افغانستان میں بم دھماکے،خواتین اور بچّیوں سمیت 16 افراد ہلاک
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 14 شعبان 1441هـ - 8 اپریل 2020م
آخری اشاعت: جمعرات 30 ربیع الاول 1441هـ - 28 نومبر 2019م KSA 20:19 - GMT 17:19
افغانستان میں بم دھماکے،خواتین اور بچّیوں سمیت 16 افراد ہلاک
کابل ۔ ایجنسیاں

افغانستان کے دو شمالی صوبوں میں مختلف بم دھماکوں میں سولہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ افغان حکام کے مطابق مرنے والوں میں زیادہ تر خواتین اور بچّیاں ہیں۔

افغان وزارت داخلہ کے ترجمان نصرت رحیمی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بدھ کی شب شمال مشرقی صوبہ کندوز میں سڑک کے کنارے نصب بم کے دھماکے میں ایک گاڑی تباہ ہوگئی اور اس میں سوار پندرہ افراد ہلاک ہوگئے۔ان میں چھے عورتیں ، چھے لڑکیاں اور دو شیر خوار بچے اور ان کا مرد ڈرائیور ہے۔اس بم دھماکے میں دو اور افراد زخمی ہوئے ہیں۔

اس واقعے کے چند گھنٹے کے بعد شمالی صوبہ سرائے پُل میں ایک سکیورٹی چیک پوائنٹ پر مسلح افراد نے حملہ کردیا۔اس کے بعد مسلح جھڑپ اور بم دھماکے میں ایک پولیس اہلکار ہلاک ہوگیا۔

صوبائی پولیس کے ترجمان محمدنورآغا فیضی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جمعرات کی صبح ایک گاڑی میں سوار مسلح جنگجوؤں کو چیک پوائنٹ پر روکا گیا تھا۔ان کی گاڑی میں دھماکا خیز مواد تھا اور انھوں نے وہاں سے فرار ہونے کے لیے فائر کھول دیا۔پھر وہاں سے دور جانے کے بعد انھوں نے ایک گرائے گئے بم کو ریموٹ کنٹرول سے اڑا دیا۔

افغان وزارت داخلہ نے طالبان پر ان دونوں حملوں کا الزام عاید کیا ہے لیکن مزاحمتی گروپ نے خود اس حوالے سے کوئی بیان جاری کیا ہے اور نہ ان حملوں کی ذمے داری قبول کی ہے۔

دریں اثناء امریکا کے چئیرمین جائنٹ چیفس آف اسٹاف مارک میلے نے کابل میں افغان صدر اشرف غنی سے ملاقات کی ہے اور انھیں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکا کی جانب سے حمایت کا یقین دلایا ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ منگل کے روز طالبان نے ایک امریکی اور ایک آسٹریلوی پروفیسر کو اپنی تین سرکردہ شخصیات کے بدلے میں رہا کردیا تھا۔ طالبان نے ان دونوں غیرملکیوں کو 2016ء سے یرغمال بنا رکھا تھا۔طالبان کا کہنا ہے کہ قیدیوں کے اس تبادلے سے افغانستان میں امن مذاکرات کی بحالی میں مدد مل سکتی ہے۔

طالبان اور امریکا کے درمیان ستمبر سےامن مذاکرات کا عمل معطل ہے۔واضح رہے کہ طالبان جنگجوؤں کا اس وقت افغانستان کے قریباً نصف علاقے پر کنٹرول ہے اور وہ کم وبیش روزانہ ہی افغان فورسز اور سرکاری حکام پر حملے کرتے رہتے ہیں لیکن عام شہری بھی ان کا نشانہ بن جاتے ہیں۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند