تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
فائز السراج اور ترکی کے درمیان معاہدہ ایک سازش ہے : لیبیائی فوج
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

اتوار 23 جمادی الاول 1441هـ - 19 جنوری 2020م
آخری اشاعت: بدھ 6 ربیع الثانی 1441هـ - 4 دسمبر 2019م KSA 12:58 - GMT 09:58
فائز السراج اور ترکی کے درمیان معاہدہ ایک سازش ہے : لیبیائی فوج
احمد المسماری
دبئی – العربیہ ڈاٹ نیٹ

لیبیا میں (فیلڈ مارشل جنرل خلیفہ حفتر) قومی فوج کی جنرل کمان کے سرکاری ترجمان احمد المسماری نے باور کرایا ہے کہ " ترکی اور وفاق کی حکومت کے سربراہ فائز السراج کے درمیان حال ہی میں طے پانے والا معاہدہ ایک سازش ہے۔ یہ سازش لیبیا کو ایک ایسی انارکی میں دھکیل دیں گے جس سے ہم بے نیاز ہیں"۔ منگل کی شب ایک پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ "مذکورہ معاہدہ الاخوان المسلمین اور دیگر دہشت گرد جماعتوں کو لیبیا میں ترکی کی براہ راست امداد اور فوجی اڈے پیش کرے گا"۔

ترجمان کے مطابق لیبیا کی فوج کے سربراہ خلیفہ حفتر نے لیبیا کو ترکی کے اڈوں میں تبدیل کرنے کے حوالے سے انقرہ کی منصوبہ بندی پر روک لگانے کے سلسلے میں مصر اور یونان سمیت کئی ممالک کے کردار کو سراہا۔

المسماری نے زور دے کر کہا کہ فائز السراج کے دستخط کردہ سمجھوتے نے لیبیا کو یونان، قبرص اور برادر عرب ممالک کے ساتھ براہ تصادم کی پوزیشن میں لا کھڑا کیا ہے .. ہم نہیں چاہتے کہ لیبیا کسی بھی پڑوسی ملک کے لیے پریشانی یا تشویش کا ذریعہ بنے۔

ترجمان نے عالمی برادری، عرب لیگ اور افریقی یونین سے مطالبہ کیا کہ اب وہ وفاق کی حکومت کی صدارتی کونسل کے خلاف لیبیا کے عوام کے ساتھ اپنی آواز ملائیں۔

یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے لیبیا میں وفاق کی حکومت نے ترکی کے ساتھ عسکری اور بحری تعاون مضبوط بنانے اور عسکری تعلقات کی سپورٹ کے لیے کئی سمجھوتوں پر دستخط کیے۔ ان سمجھوتوں نے وسیع پیمانے پر تنازع اور داخلی تنقید کو جنم دیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان سمجھوتوں سے انقرہ حکومت کے لیے راستہ کھل جائے گا کہ وہ لیبیا میں اپنی حلیف مسلح ملیشیاؤں کو مزید سپورٹ ارسال کرے اور لیبیا کے تنازع کو بھڑکائے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند