تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
لیبیا :طرابلس میں صدارتی محل کے ارد گرد مسلح گروپوں میں جھڑپیں
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعہ 15 ربیع الثانی 1441هـ - 13 دسمبر 2019م
آخری اشاعت: بدھ 6 ربیع الثانی 1441هـ - 4 دسمبر 2019م KSA 18:57 - GMT 15:57
لیبیا :طرابلس میں صدارتی محل کے ارد گرد مسلح گروپوں میں جھڑپیں
لیبیا کی قومی حکومت کے وزیراعظم فایزالسراج ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے ساتھ 27 نومبر کو ملاقات کررہے ہیں۔ فائل تصویر
العربیہ ڈاٹ نیٹ

لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں صدارتی محل کے سامنے اقوام متحدہ کی تسلیم شدہ قومی اتحاد کی حکومت (جی این اے) کے وزیراعظم فایزالسراج کے محافظوں اور مسلح جنگجوؤں کے درمیان جھڑپیں ہورہی ہیں۔

العربیہ کے ذرائع کے مطابق لیبیا کے مشرقی شہر مصراتہ سے تعلق رکھنے والے ایک مسلح گروپ نے وزیراعظم کے محافظوں پر فائرنگ شروع کردی۔اس وقت محافظ فایزالسراج اور ان کی حکومت کے ارکان کو اپنے سکیورٹی حصار میں عمارت سے باہر لے جانے کی کوشش کررہے تھے۔

بدھ کی سہ پہر طرابلس سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق مسلح افراد نے صدارتی محل کا گھیراؤ کررکھا تھا۔ذرائع نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ وزیراعظم فایزالسراج فائرنگ کے ابتدائی تبادلے کے وقت صدارتی محل ہی میں موجودتھے۔

ان کے زیرِ قیادت قومی اتحاد کی حکومت اس وقت مختلف گروپوں سے نبرد آزما ہے۔ ان کے اصل حریف جنرل خلیفہ حفتر اور ان کے زیرقیادت مشرقی لیبیا سے تعلق رکھنے والی لیبی قومی فوج( ایل این اے) ہے۔اس نے گذشتہ کئی ماہ سے طرابلس پر قبضے کے لیے نواحی علاقوں کا محاصرہ کررکھا ہے۔

لیبی قومی فوج نے اسی ہفتے ترکی اور جی این اے کی حکومت کے درمیان بحرمتوسط میں ڈرلنگ کے لیے ڈیل کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔اس سمجھوتے کے دونوں فریقوں پر بحرمتوسط کے مشرقی کنارے واقع دوسرے ممالک کے قانونی حقوق کو ملحوظ نہ رکھنے کا الزام عاید کیا گیا ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند