تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
آئندہ چند گھنٹوں میں عراقی ذمے دارارن پر امریکی پابندیاں عائد ہوں گی : ذرائع
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

منگل 25 جمادی الاول 1441هـ - 21 جنوری 2020م
آخری اشاعت: جمعہ 8 ربیع الثانی 1441هـ - 6 دسمبر 2019م KSA 12:15 - GMT 09:15
آئندہ چند گھنٹوں میں عراقی ذمے دارارن پر امریکی پابندیاں عائد ہوں گی : ذرائع
دبئی – العربیہ نیوز چینل

امریکی ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ واشنگٹن انتظامیہ عراقی ذمے داران پر پابندیاں عائد کرنے کا ارادہ رکھتی ہے ، ان پابندیوں کا اعلان آئندہ چند گھنٹوں میں کر دیا جائے گا۔

یہ پیش رفت عراق میں بالخصوص جنوبی صوبوں میں عوامی احتجاج کے خلاف تشدد کے واقعات میں اضافے کے بعد سامنے آئی ہے۔ جنوبی صوبوں میں ایک دن کے اندر درجنوں مظاہرین اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے مطابق "ان کا ملک اپنا قانونی اختیار استعمال کرے گا تا کہ عراقیوں کی دولت لوٹنے والی بدعنوان شخصیات اور مظاہرہ کرنے والے شہریوں کو ہلاک اور زخمی کرنے والوں پر پابندیاں عائد کی جا سکیں"۔

اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ کے معاون ڈیوڈ شنکر نے اُن پابندیوں کا عندیہ دیا تھا جو واشنگٹن کی جانب سے عراق میں "جابر عہدے داران" کے خلاف لگائی جا سکتی ہیں۔ شنکر نے مظاہرین کے خلاف طاقت کے خوف ناک اور شنیع استعمال کی مذمت کی۔

ادھر بغداد میں تحریر اسکوائر پر موجود طبی کارکنان کے حوالے سے ذرائع نے بتایا کہ حکومت میں شامل سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے نامعلوم عناصر نے جمعرات کی صبح مظاہرین کے خلاف چاقو مارنے کی کارروائیاں کیں۔

دوسری جانب عراق کے صدر برہم صالح نے شام کے لیے امریکی ایلچی جیمز جیفری اور عراق میں امریکی سفیر میتھیو ٹولر سے ملاقات کی۔ اس دوران خطے کی تازہ صورت حال اور عراق کے امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لیے اصلاحات کے طریقہ کار پر بات چیت ہوئی۔

عراق میں نگراں حکومت کے سربراہ عادل عبدالمہدی نے بھی امریکی ایلچی جیمز جیفری اور دیگر ذمے داران کے ساتھ ملاقات کی۔ ملاقات میں بین الاقوامی اتحادی فورسز کے کمانڈر پیٹرک وائٹ اور مشرق وسطی کے امور کے لیے امریکی نائب وزیر دفاع کرس مائر بھی موجود تھے۔ اس دوران داعش تنظیم کی باقیات سے نمٹنے کے لیے تعاون کی صورتوں اور عراقی فوج کے لیے بین الاقوامی اتحادی فورسز کی سپورٹ پر تبادلہ خیال ہوا۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند